مسٹر پتلو کی مہندی میں بھگدڑ محض غربت نہیں بلکہ ذہنی دیوالیہ پن ہے، رؤف کلاسرہ کا تبصرہ

سیالکوٹ (قدرت روزنامہ) معروف کالم نگار اور سینئر تجزیہ کار رؤف کلاسرہ نے سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران مچنے والی بھگدڑ، قیمتی جانوں کے ضیاع اور شہریوں کی بڑی تعداد کے زخمی ہونے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی شدید نااہلی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے، انہوں نے اس واقعے کو محض غربت نہیں بلکہ قوم کا ذہنی دیوالیہ پن اور سماجی پسماندگی بھی قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ردِعمل میں رؤف کلاسرہ نے بھارتی اداکار انیل کپور کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’انیل کپور نے کہا تھا کہ ہر ہندوستانی کے ذہن میں یہ خوف بیٹھا ہے، چاہے وہ ارب پتی ہی کیوں نہ ہو، کہ کہیں وہ غریب نہ ہو جائے لہٰذا وہ اندھا دھند پیسہ کمانے میں لگا رہتا ہے، جب کہ دیگر طبقات مفت انعامات کے انتظار میں رہتے ہیں کہ شاید کوئی داؤ لگ جائے اور وہ راتوں رات امیر ہو جائیں‘۔
بھارتی اداکار انیل کپور نے کہا تھا ہر ہندوستانی کے ذہن میں خوف بیٹھا ہے چاہے وہ ارب پتی تک کیوں نہیں کہ کہیں وہ “ گریب “ نہ ہو جائے لہذا وہ اندھا دھند پیسہ کمانے پر لگا رہے گا جبکہ باقی طبقات مفت انعامات کا انتظار کرتے ہیں کہ شاید دائو لگ جائے اور راتوں رات امیر ہو جائیں
ویسے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ/ڈی پی او سے کچھ جواب طلبی بنتی ہے کہ کوئی بھی ایک مفت گاڑی/انعامات کا اشتہار سوشل میڈیا پر چلا دے اور ہزاروں لوگ اکٹھے کر لے اور بندے کچلے جائیں.. آپ نیوٹرل رہیں گے؟ اتنا بڑا ایونٹ ہو اور لوگ اکٹھے ہو رہے ہوں کوئی پولیس /انتظامیہ کو اطلاع نہیں دیتا؟
ویسے یہ غربت نہیں بلکہ ذہنی دلوالیہ پن اور پس ماندگی ہے۔ مفت کی چیز کا سن کر لوگ بھونترے ہو جاتے ہیں چاہے وہ ٹی وی شو پر مفت انعامات ہوں تو وہ ہر قسمی حرکت لائیو کر گزریں گے ۔ ویسے یہ ڈپٹی کمشنر کی کمزوری ایڈمنسٹریشن کو ظاہر کرتا ہے جس کی اجازت بغیر کیسے یہ ایونٹ کا اعلان/انعقاد ہوا جس میں انسانی جانیں بھی گئیں اور زخمی بھی درجنوں ہوے۔@MaryamNSharif @OfficialDPRPP @CS_Punjab @GovtofPunjabPK @DpoSialkot @DcSialkot @DCSialkotOffice @Dcsialkot1
— Rauf Klasra (@KlasraRauf) November 1, 2026
انہوں نے سیالکوٹ واقعے کا تقابل اس نفسیات سے کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں مفت کی چیز کا سن کر لوگ اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں اور بھونترے ہو جاتے ہیں، چاہے ٹی وی شو پر مفت انعامات کا لالچ ہو تو لوگ لائیو ہر قسم کی حرکات کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔
تجزیہ کار نے کہا کہ فراز اسٹیڈیم سیالکوٹ میں اکٹھا ہونے والا ہجوم محض معاشی مجبوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک شدید ذہنی دیوالیہ پن اور فکری پسماندگی کو ظاہر کرتا ہے، اس معاملے پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اور ڈی پی او سے باقاعدہ جواب طلبی ہونی چاہیے، کیا ملک میں کوئی بھی شخص سوشل میڈیا پر مفت گاڑی اور انعامات کا اشتہار چلا کر ہزاروں لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کر لے اور وہاں لوگ پاؤں تلے کچلے جائیں اور انتظامیہ نیوٹرل تماشائی بنی رہے؟ اتنا بڑا ایونٹ منعقد ہو رہا ہو، ہزاروں لوگ امڈ رہے ہوں اور کیا پولیس یا حساس اداروں کو اس کی کاجل تک اطلاع نہیں ہوتی؟۔
