وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چودھری سالک، اینکر نعیم اشرف بٹ اور اے آر وائی انتظامیہ کو قانونی نوٹس ارسال کردیا

لاہور (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے وفاقی وزیر چودھری سالک حسین، اینکر نعیم اشرف بٹ اور اے آر وائی انتظامیہ کو قانونی نوٹس ارسال کردیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے قانونی نوٹس میں مئوقف اختیار کیا گیا کہ چودھری سالک حسین نے پنجاب میں کرپشن کی فائلوں سے الماریاں بھری ہونے کا دعویٰ کیا، لیکن الزامات کے حق میں کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کیا، مذکورہ بیانات سے پنجاب حکومت کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے قانونی نوٹس کے مطابق 2 نومبر 2026 کو اے آر وائی نیوز پر نشر ہونے والے چودھری سالک حسین کے انٹرویو میں پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف کرپشن سے متعلق الزامات پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے قانونی نوٹس میں اعتراض اٹھایا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اینکر نعیم اشرف بٹ نے پنجاب میں مبینہ کرپشن کے معاملے کو اجاگر کرواتے ہوئے انٹرویو میں گفتگو کا آغاز کیا، جس کے بعد چودھری سالک حسین نے صوبائی حکومت کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔
قانونی نوٹس میں چودھری سالک حسین کے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ چودھری سالک نے پنجاب میں کرپشن سے متعلق باتیں سننے اور کرپشن کی فائلوں سے الماریاں بھری ہونے کا دعویٰ کیا، لیکن اپنے الزامات کے حق میں کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کیا۔
چودھری سالک حسین نے اس بات کا خود اعتراف کیا کہ کرپشن الزامات ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس شواہد موجود نہیں، پنجاب میں کرپشن کے حوالے سے ان کے سنگین دعوؤں سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ صوبائی انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر کرپشن موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے وفاقی وزیر چودھری سالک حسین، اینکر نعیم اشرف بٹ اور اے آر وائی انتظامیہ کو قانونی نوٹس ارسال کردیا گیا۔ https://t.co/mxNq6ZQaNa
— PMLN (@pmln_org) November 3, 2026
قانونی نوٹس میں وفاقی وزیر چودھری سالک کے عہدے پر بھی سوال اٹھایا گیا کہ اس اہم عہدے پر فائز شخص سے ذمہ دارانہ گفتگو کی توقع کی جاتی ہے نہ کہ محض سنی سنائی باتوں کو حقیقت بنا کر پیش کرنا مناسب ہے۔ انٹرویو کے دوران اینکر نے بھی الزامات کی تصدیق کے لیے شواہد طلب نہیں کیے۔ قانونی نوٹس کے مطابق سیاسی تنقید اور حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانا ہر کسی کا حق ہے، لیکن بے بنیاد الزامات نہیں پھیلائے جاسکتے۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے پنجاب میں کرپشن سے متعلق بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہرجانے کا نوٹس بھجوانے کا اعلان کیا تھا۔ اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر چوہدری سالک کے پاس پنجاب حکومت یا ان کے خلاف کرپشن کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ انہیں عوام کے سامنے لے کر آئیں، ورنہ وہ انہیں عدالت میں گھسیٹیں گی، ایک وفاقی وزیر ہونے کے ناطے بغیر کسی دستاویزی ثبوت کے ہوائی الزامات عائد کرنے سے گریز کرنا چاہیے، اگر موجودہ صوبائی حکومت اور نظام ان کی نظر میں اتنا ہی کرپٹ ہے، تو پھر وہ کس اخلاقی جواز کے تحت وفاقی وزارت کی کرسی پر بیٹھے ہیں؟
چوہدری سالک کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہٰی کی تعریف کرنے پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ شخص کہتا ہے کہ سب سے بہترین حکومت پرویز الہٰی کی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب میں بارش کے دوران گجرات گئی تو وہاں سڑکوں اور محلوں میں اتنا پانی جمع ہو چکا تھا کہ میری اپنی گاڑی تک پانی میں ڈوب گئی، میں کرپشن کے معاملے پر کسی کی بلیک میلنگ یا دباؤ میں نہیں آؤں گی، صوبے بھر میں تمام تقرریوں کو مکمل میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنا رہی ہیں کیونکہ سفارش پر آنے والا ہر شخص ملک اور غریب عوام کا بیڑا غرق کرتا ہے۔
