مسٹر پتلو کی مہندی میں بھگدڑ، این او سی منسوخ کیے جانے کے باوجود تقریب منعقد کرنے کا انکشاف

سیالکوٹ (قدرت روزنامہ) سیالکوٹ کے ڈسکہ روڈ پر واقع فراز سپورٹس سٹیڈیم میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب میں مچنے والی بدنظمی اور بھگدڑ کے واقعے میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی، جس کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے ایونٹ شروع ہونے سے قبل ہی این او سی منسوخ کر دیا گیا تھا، تاہم آرگنائزرز کی جانب سے اس کے باوجود تقریب کا انعقاد کرنے اور ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزی کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ترجمان ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ ڈسکہ روڈ پر واقع فراز سپورٹس سٹیڈیم کی چار دیواری کے اندر ٹک ٹاکر کو ایک نجی فنکشن اور محفلِ سماع کے انعقاد کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا، جس میں تقریب کا آغاز نمازِ عشاء کے بعد مقرر تھا، تاہم نجی فنکشن کے آرگنائزرز کی جانب سے مقررہ وقت کی پابندی نہیں کی گئی اور شام تقریباً چار بجے ہی ایونٹ کے انتظامات اور شرائط کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہونے لگیں، اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی جانب سے فوری ایکشن لیتے ہوئے تقریب کا این او سی منسوخ کر دیا گیا تھا۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایونٹ کے منتظمین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے موٹر سائیکلوں، گاڑی اور دیگر قیمتی انعامات کی قرعہ اندازی کا لالچ دے کر ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو فراز سپورٹس سٹیڈیم بلا لیا، انتظامیہ کی منسوخی اور سیکیورٹی گائیڈ لائنز کے برعکس تقریب کے دوران لاؤڈ سپیکر پر تمام شرکاء کو ایک ساتھ گراؤنڈ کے اندر داخل ہونے کی ہدایات دی گئیں، جس کی وجہ سے داخلے کے مقام پر شدید رش بڑھ گیا اور لمحوں میں ہنگامہ آرائی اور بھگدڑ مچ گئی۔
تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ منتظمین نے ناصرف انتظامیہ کے سکیورٹی ایس او پیز اور روٹ پلانز کو ہوا میں اڑا دیا بلکہ اس بدنظمی کے باعث مین ڈسکہ-سیالکوٹ روڈ پر گھنٹوں ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی، اس کے علاوہ بھگدڑ اور ہنگامہ آرائی کے دوران شہریوں اور آس پاس کی املاک کو بھی نقصان پہنچنے کے واقعات پیش آئے، اجازت نامے کی منسوخی کے باوجود غیر قانونی اجتماع منعقد کرنے، عوامی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے اور سرکاری احکامات کی عدولی پر تمام نامزد اور ذمہ دار منتظمین کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔
