پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے بلکہ اس کی موجودہ قیادت ایک ناکام نسل کے ہاتھوں میں ہے، حامد میر

لاہور (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے بلکہ اس کی موجودہ قیادت ایک ناکام نسل کے ہاتھوں میں ہے، یہاں قائدین کی بہتات اور قیادت کا فقدان ہے۔ روزنامہ جنگ میں شائع اپنے کالم میں انہوں نے لکھا کہ جسٹس جاوید اقبال کی اپنی خود نوشت کا نام ’’اپنا گریباں چاک‘‘ ہے۔
اس کتاب میں انہوں نے لکھا ہے کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے بلکہ اسکی موجودہ قیادت ایک ناکام نسل کے ہاتھوں میں ہے۔ یہاں قائدین کی بہتات ہے اور قیادت کا فقدان ہے۔ پاکستان ایک سیاسی اور جمہوری جدوجہد کی پیداوار ہے لیکن آج پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کو ایک مذاق بنا دیا گیا ہے۔ کسی کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نئی نسل کو پاکستان کے تصور کے بارے میں کنفیوژ کیا جا رہا ہے۔
اگر اقبال کا تصورِ پاکستان سے رشتہ کمزور کر دیا جائے تو پیچھے کیا رہ جائے گا؟
پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے بلکہ اسکی موجودہ قیادت ایک ناکام نسل کے ہاتھوں میں ہے۔ یہاں قائدین کی بہتات ہے اور قیادت کا فقدان ہے۔ پاکستان ایک سیاسی اور جمہوری جدوجہد کی پیداوار ہے لیکن آج پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کو ایک مذاق بنا دیا گیا ہے
https://t.co/25oiwVBkxg
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) November 2, 2026
آج بھارت کی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس اپنے محبوب وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعے علامہ اقبال کو بھارت کی یونیورسٹیوں کے نصاب سے نکال سکتی ہے لیکن کابل یونیورسٹی کی علامہ اقبال فیکلٹی آف آرٹس اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف اسلامک اسٹڈیز اور شعبہ فارسی کے نصاب سے علامہ اقبال کو کیسے نکالے گی؟
دوسری طرف ٹرمپ کے حامیوں کو یہ تکلیف ہے کہ اقبال نے تہران کو مشرق کا جنیوا کیوں کہا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی کتاب میں اقبال کو مشرق کا بلند ستارہ کیوں کہا؟ علامہ اقبال مسلم ممالک میں اتحاد اور فرقہ واریت کے خاتمے کے علمبردار تھے لیکن آج بھی کئی مسلم ممالک کی حکمران اشرافیہ فکر اقبال سے خوفزدہ ہے کیونکہ اقبال ایک طرف مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام اور جاگیرداری کے مخالف تھے تو دوسری طرف ملوکیت اور بادشاہت کو بھی غیر اسلامی سمجھتے تھے۔
اقبال کے سب دشمن کل بھی آسمان پر تھوک رہے تھے آج بھی آسمان پر تھوک رہے ہیں۔ دشمنانِ اقبال فنا ہو جائیں گے لیکن فکرِ اقبال ہمیشہ زندہ رہے گی۔
