خواجہ آصف میرے بڑے بھائی ہیں، میں نے تو اس کی تھوڑی سی گدگدی کی تھی لیکن انہیں غصہ اگلے دن آیا، مولانا فضل الرحمان


پشاور (قدرت روزنامہ) سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف میرے بڑے بھائی ہیں، میں نے تو اس کی تھوڑی سی گدگدی کی تھی لیکن انہیں غصہ اگلے دن آیا، کہتے ہیں کہ مولانا کو اگر افغانستان بہت عزیز ہے تو وہاں چلے جانا چاہیے، تم اپنا نسب نامہ اور تاریخ بتاؤ! تمہارے آباؤ اجداد کل بھی انگریزوں کے وفادار تھے یا نہیں؟ میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم برطانیہ چلے جاؤ۔
پشاور میں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت 2013 سے ہے۔ پہلے وزیراعلیٰ پرویز خٹک تھے، آج وہ کہاں ہیں؟ محمود خان وزیراعلیٰ تھے، آج وہ کہاں ہیں؟ عثمان بزدار وزیراعلیٰ تھے، آج وہ کہاں ہیں؟ علی امین وزیراعلیٰ تھے، آج وہ کہاں ہیں؟ ذرا یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کس طرح ان کے اندر اسٹیبلشمنٹ گھسی ہوئی تھی اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق ہانکتی تھی۔
جمعیت علمائے اسلام کو آپ اپنی مرضی سے نہیں ہانک سکتے۔

کہتے ہیں کہ مولانا کو افغانستان چلے جانا چاہیے اگر افغانستان ان کو بہت عزیر ہے۔ تم اپنا نسب نامہ بتاؤ۔ تم اپنی تاریخ بتاؤ، تمہارے آباؤ اجداد کل بھی انگریزوں کے وفادار تھے۔
تمہاری تعلیم و تربیت آج بھی وہی نہیں جو انگریزوں نے دی تھی ؟ میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم نے اگر پاکستان میں رہنا ہے تو آپ کو پاکستان میں رہنے کا حق حاصل نہیں ہے جاؤ برطانیہ چلے جاؤ، وہی تمہاری اقامت گاہ بن سکتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ خواجہ آصف میرے محترم ہیں بڑے بھائی ہیں میں نے صرف انہیں گدگدی کی ہے، لیکن ان کو غصہ اگلے دن آیا۔
مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ افغانستان سے منسلک اضلاع کے بعد اب کوہاٹ ڈویژن میں بھی ایمرجنسی لگائی جائے گی کیونکہ وہاں سے بھی اسمگلنگ کا راستہ موجود ہے اور اگر ان کا یہ مؤقف غلط ہے تو مخالفین دلیل کے ساتھ ان کا جواب دیں۔
انہوں نے خواجہ آصف کے ردعمل سے متعلق کہا کہ خواجہ آصف میرے محترم اور بڑے بھائی ہیں، میں نے تو صرف ان کی گدگددی لی تھی مگر وہ غصہ کرگئے، اور انہیں غصہ اگلے روز آیا جو کہ ان کے اپنے منہ پر لگتا ہے، یہاں بڑے بڑے صاحب بہادر گزرے ہیں، وہ بھی ہمارے سروں پر بیٹھنا چاہتے تھے، ہم نے ان کو بغل میں دبا دیا، ہم مرعوب ہونے والے نہیں، آزمانا چاہتے ہو تو ذرا ہاتھ لگا کر دیکھو۔

سربراہ جے یو آئی نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پروپیگنڈا کرکے ہمارے کارکنوں کو ہرگز متاثر نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ تمام چیزیں کون کر رہا ہے؟ ایسی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو آرمی چیف کی ناک کے نیچے ہے۔

میں برملا آرمی چیف سے شکایت کرتا ہوں اور موقع ملنے پر یہ بات ان کے سامنے بھی رکھوں گا کہ اخلاقی گراوٹ اتنی نیچے گرچکی ہے کہ ایک حافظِ قرآن سے اس کی توقع نہیں تھی۔

WhatsApp
Get Alert