پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 5 روپے 45 پیسے کمی کردی گئی ہے جبکہ ڈیزل بھی فی لیٹر 3 روپے 68 پیسے فی لیٹر سستا کر دیا گیا ہے۔
پیٹرول کی نئی قیمت 369 روپے 6 پیسے مقرر کردی گئی ہے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 391 روپے 52 پیسے مقرر کردی گئی۔
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث توانائی اور خوراک سمیت مختلف اجناس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عالمی بینک کی جاری کردہ کموڈیٹی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے دوران عالمی اجناس کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 23 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ توانائی کی قیمتیں 32 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔
قیمتوں میں اضافے کے اثرات عالمی معیشت، مہنگائی اور عام صارفین کی قوتِ خرید پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 2026 کے دوران 91 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے، جبکہ خوراک کی عالمی قیمتوں میں 10 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت، نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں مہنگائی کا دباؤ مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے۔
عالمی بینک نے رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے اثرات بحیرہ? اسود کے راستے زرعی اجناس کی ترسیل پر بھی پڑ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ دسمبر اور جنوری میں بھرپور سردی ہوگی، کوشش ہے کہ گھریلو صارفین کو تین وقت کھانا پکانے کیلئے گیس فراہم کی جائے، سعودی آرامکو نے مارچ میں ایل پی جی کی کنٹریکٹ قیمت 540 ڈالر فی ٹن مقرر کی تھی، اب بڑھ کر 756 ڈالر ہوگئی ہے، حکومت ایل پی جی کی کم قیمت پر درآمد یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے خطے میں جنگ کی وجہ سے مشکل وقت ہے، امریکا ایران جنگ 28 فروری سے شروع ہوئی تھی آج بھی اس کی تکلیف گھر میں اور اردگر نظر آتی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، اس دوران وزیراعظم کی ہدایت ہم سب کو بھی رہی ہے اور اس حوالے سے عملی اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں، حکومت نے معاشی حقیقت اور چادر کو دیکھتے ہوئے کمزورلوگوں کو ہر طرح سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ توانائی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہوگا، خود کفیل ہونا ہوگا، جنگ ہم پر ضرور کہیں اور ہے اور اس کی زد میں ہم آچکے ہیں لیکن ان چیلنجز کا مقابلہ ہم نے خود کرنا تھا ، حکومت انرجی سکیورٹی آرکیٹیکچر بنانے پر کام ہورہا ہے۔ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خودکفیل بنانے کے لیے اسٹوریج، ریفائنریز اور ایل پی جی کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔
آئندہ سردیوں میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے مہنگی ایل این جی درآمد کرنے اور ضرورت پڑنے پر گیس کی راشننگ جیسے اقدامات بھی زیرِ غور ہیں۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ دسمبر اور جنوری میں بھرپور سردی ہوگی، پوری کوشش ہے کہ گھروں میں کھانا پکانے کے تین اوقات میں گیس فراہم کی جائے، باقی چیزوں کیلئے ایل پی جی گیس درکار ہوگی۔
کوشش ہے کہ باہر سے سستا ایندھن لایا جائے اور عوام کو کم قیمت پر فراہم کیا جائے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ سعودی آرامکو نے مارچ میں ایل پی جی کی کنٹریکٹ قیمت 540 ڈالر فی ٹن مقرر کی تھی، جو حال ہی میں بڑھ کر 756 ڈالر فی ٹن ہو گئی۔ ایل پی جی کے شعبے میں مسابقت بڑھانے اور کم قیمت پر درآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert