مسلح جتھوں اور پراکسیز کے ذریعے خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے، حکومت بدامنی کی براہِ راست ذمہ دار ہے: پشتونخوامیپ
تنگ مسے زئی میں باپ بیٹے کا سفاکانہ قتل اور قلعہ سیف اللہ میں نوابزادہ سکندر جوگیزئی پر حملہ کھلی لاقانونیت ہے، قاتلوں کی گرفتاری تک احتجاج جاری رہے گا: پشین میں مظاہرہ

پشین (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی کی ہدایت پر ضلع پشین میں تنگ مسے زئی میں دہشت گردانہ واقعہ کے خلاف ضلع سیکرٹری عمر خان ترین کی زیر صدارت احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا۔ احتجاجی مظاہرے سے ضلعی صدر عمر خان ترین،مرکزی سیکرٹری عبد الحق ابدال، تحصیل پشین کے صدر عصمت کمالزئی، تحصیل حرمزئی کے صدر ایڈوکیٹ مناف خان بادیزئی، تحصیل کارپوریشن کے جنرل سیکرٹری شمس جمال نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ دہشت گردی،بدامنی، چوری،ڈکیتی کی مسلسل وارداتوں اور امن وامان کی ابتر صورتحال سے جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع اور اس کے عوام دوچار ہیں،پشتونخوامیپ کے چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی کی دعوت پرپارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی کی صدارت میں جنوبی پشتونخوا کے ڈویژنل جرگوں، جنوبی پشتونخوا صوبے کے جرگے منعقد ہوئے اور اب ضلعی سطح پر جرگوں کا سلسلہ جاری ہے۔یہ جرگے ایسی صورتحال میں جاری ہے کہ ہمارے عوام کا سرومال محفوظ نہیں رہا، وسائل پر قبضہ جاری ہے، مسلح جتھوں کے ذریعے خوف وہراس پھیلا کر سرکاری سطح پر پراکسیز جاری ہے۔ اور مسلط فارم 47کی حکومت اس تمام صورتحال کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقہ تنگ مسے زئی میں مسلح عناصر کا گاؤں میں داخل ہونے، لوٹ مار، ڈکیتی، باپ بیٹے کو شہید کرنے اور ایک نوجوان کو اغواء کرنے کا واقعہ رونماء ہوا اور گزشتہ رات ضلع قلعہ سیف اللہ میں پارٹی کے ضلع ایگزیکٹیورکن نوابزادہ سکندر خان جوگیزئی،عبدالرحمن کمال الدین زئی پر قاتلانہ حملہ بدامنی کے واقعات کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان جرگوں کو منظم کرنا ہوگا، جرگوں کے ذریعے اپنے عوام اور وطن کی حفاظت کرنی ہوگی۔ مقررین نے قلعہ عبداللہ میزئی اڈہ میں جاری احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شہدا کے قاتلوں کی گرفتاری اور مغوی نوجوان کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور جنوبی پشتونخوا کو مسلح جتھوں کا خاتمہ اور جاری پراکسیز کو ختم کیا جائے۔
