میزئی اڈہ: شہداء کے لواحقین اور دھرنے کے شرکاء کے مطالبات فی الفور تسلیم کیے جائیں، حیدر خان کاکڑ کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے: پشتونخوا نیپ


میزئی اڈہ (قدرت روزنامہ): پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے اور مرکزی سیکریٹری حاجی اعظم خان مسیزئی نے کہا ہے کہ کلی تنگ مسیزئی، ضلع قلعہ عبداللہ کے شہداء کے لواحقین اور دھرنے کے ہزاروں شرکاء کے مطالبات فی الفور تسلیم کیے جائیں، حیدر خان کاکڑ کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، علاقے سے مسلح جتھوں اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے اور منشیات و افیون کی کاشت کا مکمل سدباب کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے میزئی اڈہ میں کلی تنگ مسیزئی کے شہداء کے لواحقین کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دھرنے میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری ملک عبیداللہ مسیزئی، سلیمان خان بازی، مرکزی کمیٹی کے رکن زکریا خان عبدالرحمانزئی، رمضان خان مسیزئی، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ پشتون علاقوں میں مسلسل دہشت گردی کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ جنوبی پشتونخوا میں گزشتہ چند ماہ کے واقعات سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ پشتونخوا وطن کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردی کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ ان حالات کے پسِ پردہ ریاستی سرپرستی کے حوالے سے بھی سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن، بالخصوص جنوبی پشتونخوا کے مختلف علاقوں میں موجود قیمتی معدنی وسائل پر قبضے اور پشتون عوام کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ماضی میں خیبر پشتونخوا اور سابقہ فاٹا میں بھی ایسے اقدامات کیے گئے، جن کے نتیجے میں پشتون عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ناقابلِ فہم ہے کہ ایک ایٹمی ملک، جس کے پاس لاکھوں فوجی، جدید ٹیکنالوجی اور طاقتور خفیہ ادارے موجود ہیں، اس کے باوجود دہشت گرد قلعہ عبداللہ کے مختلف علاقوں، کلی تنگ مسیزئی، ہنہ اوڑک، زیارت، شاہرگ، ہرنائی، شابان اور زرغون غر سمیت دیگر علاقوں میں سرعام گھوم رہے ہیں۔ دہشت گردوں کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو، ان کا خاتمہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ریاست عوام کے تحفظ میں ناکام ہو جائے تو ایسے حکمرانوں کو ایک دن کے لیے بھی حکومت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ پشتونخوا وطن کے دریاؤں، جنگلات، معدنیات اور دیگر قیمتی وسائل سے ملک کی معیشت چل رہی ہے، مگر افسوس کہ ان وسائل کے اصل مالک پشتون عوام کو اپنے ہی وطن میں امن، تحفظ اور بنیادی شہری حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج پشتونخوا وطن دہشت گردی، قتل و غارت، اسٹریٹ کرائمز، ڈکیتی اور چوری جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ان حالات میں عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے مقامی حالات اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں مقررین نے لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے فیصلے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے اور لیویز فورس کو اس کی سابقہ حیثیت میں فوری طور پر بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لیویز فورس مقامی علاقوں کے رسم و رواج، جغرافیائی حالات اور قبائلی و سماجی ڈھانچے سے بخوبی واقف ہے، اس لیے اس کی بحالی امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان سنگین حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، قومی رہنماؤں اور عوام کو متحد و منظم ہو کر ایک قومی محاذ تشکیل دینا ہوگا، تاکہ دہشت گردی، بدامنی اور عوام دشمن اقدامات کے خلاف مشترکہ اور مؤثر جدوجہد کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے شہداء کے لواحقین کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی جانب سے دھرنا کمیٹی کو تجویز دی گئی ہے کہ دھرنے کو کوئٹہ منتقل کیا جائے، تاکہ جنوبی پشتونخوا کے تمام علاقوں کے عوام اس میں بھرپور شرکت کر سکیں اور مطالبات کی منظوری کے لیے مشترکہ آواز بلند کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح ماضی میں سانحہ زیارت اور سانحہ ہنہ اوڑک کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے مشترکہ جدوجہد کی، اسی طرح اب بھی اتحاد و اتفاق کے ساتھ قومی حقوق، امن و امان اور عوام کے تحفظ کے لیے بھرپور جدوجہد کرنا ہوگی۔
دھرنے میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری ملک عبیداللہ مسیزئی، ضلع کے سینئر معاون سیکریٹری رمضان خان اور دیگر پارٹی رہنما و کارکن بھی موجود تھے۔

WhatsApp
Get Alert