مریم نواز روایتی لکھی ہوئی تقاریر کی بجائے نوجوانوں سے براہِ راست مکالمہ کرتی ہیں، عظمیٰ بخاری

لاہور(قدرت روزنامہ) صوبائی وزیرِ اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ماضی کے برعکس وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا گورننس کا ماڈل بالکل مختلف اور منفرد ہے، جہاں افسران کی تقرریوں اور تعیناتیوں کا پورا عمل شفاف رکھا گیا ہے، اب تمام افسران کے انٹرویو مریم نواز خود کرتی ہیں اور تقرریاں بھی خود ہی کرتی ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سرکاری افسران کی تعیناتیوں کا نظام سیاسی سفارشات اور ذاتی مفادات کے گرد گھومتا تھا، ارکانِ اسمبلی اپنی مرضی کے اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایس ایچ اوز، تحصیلداروں اور پٹواریوں کو تعینات کرواتے تھے تاکہ انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے، تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس روایت کے برعکس میرٹ اور شفافیت پر مبنی گورننس کا نظام متعارف کروایا جہاں تمام افسران کے وہ خود انٹرویو کرتی ہیں اور تقرریاں بھی خود ہی کرتی ہیں، پنجاب کابینہ کے کسی بھی رکن یا کسی سیاسی شخصیت کے پاس کسی افسر کی پسندیدہ تعیناتی کروانے کا کوئی اختیار نہیں، وزیراعلیٰ کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے الزامات پر ردِعمل دیتے ہوئے صوبائی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ جمہوریت میں سب کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے لیکن آزادی کے نام پر کردار کشی کرنا، جھوٹے الزامات لگانا اور پروپیگنڈا کرنا درست نہیں، چوہدری سالک حسین نے آزادیِ رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ باقاعدہ کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے اور بعد میں خود ہی تسلیم کیا کہ ان کے پاس کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، اس لیے انہیں قانونی طریقہ کار کے تحت نوٹس سرو کیا گیا، اب انہیں قانونی فورم اور عدالت میں اپنے دعوؤں کو ثبوتوں کے ساتھ درست ثابت کرنا ہو گا۔
عظمیٰ بخاری نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے ہمیشہ اپنے اتحادیوں کو احترام کے ساتھ ساتھ رکھا ہے اور چوہدری سالک حسین آج بھی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں، اتحادی رہنماؤں سے سیاسی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی توقع کی جاتی ہے، جب الزامات پر وضاحت طلب کی گئی تو انہوں نے سنجیدہ جواب کے بجائے غیر مناسب رویہ دکھایا، مزید برآں سالک حسین کا یہ مؤقف کہ ڈپٹی کمشنر کا تبادلہ پہلے ہی ہو چکا تھا، حقائق کے منافی ہے کیونکہ تبادلے کا فیصلہ عین اسی روز کیا گیا جس دن ان کا بیان منظرِ عام پر آیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نوجوانوں اور طلبہ کو اپنی ترجیحات میں خصوصی اہمیت دیتی ہیں، وہ طلبہ کے اجتماعات میں کسی روایتی لکھی ہوئی تقاریر کے بجائے براہِ راست مکالمہ کرتی ہیں اور انہیں صفائی کا خیال رکھنے، بزرگوں کا احترام، شائستہ گفتگو اور وطن کے وقار کا تحفظ کرنے جیسے مثبت اصولوں کی تلقین کرتی ہیں تاکہ انہیں گمراہ کن پروپیگنڈے سے محفوظ رکھا جا سکے، افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاسی مخالفین نوجوانوں کی تربیت جیسے مثبت اقدام پر بھی تنقید کرنے سے باز نہیں آتے۔
