جے یو آئی سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر 40 افراد کا دھاوا، خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے کا الزام ، سینیٹ میں تحریک استحقاق جمع کرا دی


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)جے یو آئی سینیٹر کامران مرتضی کے گھر پر 40 افراد نے حملہ کر کے گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا، سینیٹر کامران مرتضی نے سینٹ کی استحقاق کمیٹی میں تحریک استحقاق جمع کروادی ، جس میں کہا کہ میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر ایوان میں درج ذیل تحریک استحقاق پیش کرتا ہوں، چار نومبر کو تقریباً 40 افراد نے میرے ذاتی گھر نمبر 70-D، سنگل ہاؤسنگ اسکیم کو گھیرے میں لے کر دھاوا بولا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تحریک استحقاق میں کہا کہ نامعلوم لوگوں نے گھر کے مین گیٹ پر لاتیں ماریں، دیواروں پر چڑھ کر گھر کے اندر کی تصاویر بنائیں، شور شرابہ سن کر محلے کے لوگ اکٹھے ہوئے اور وہاں پر موجود چند طلباء نے اپنے ذاتی موبائل کیمروں سے ان افراد کی ویڈیو بنانا چاہی تو انہوں نے انہیں منع کر دیا، بعد میں چالیس افراد میرے آبائی گھر نمبر D-22 والے گھر کو گھیرے میں لے کر میرے گھر سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ہے وہاں حملہ آور ہوئے۔نامعلوم لوگوں نے دروازوں کو لاتیں ماریں اور چھت پر چڑھ گئے، اس وقت گھر میں میرے چھوٹے بھائی عدنان کے علاوہ گھر کی خواتین اور بچے بھی موجود تھے، میرے بھائی نے مذکورہ بالا افراد سے ان کی شناخت اور بلاوجہ ہراساں کرنے کی وجہ دریافت کی، جس پر انہوں نے اپنی شناخت بتانے سے انکار کیا اور کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کہنے پر آئے ہیں۔
تحریک استحاق کے مطابق کچھ دیر میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے کی وجہ سے مذکورہ بالا افراد وہاں سے چلے گئے، سینیٹ آف پاکستان کا ایک رکن اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک سینئر وکیل ہونے کے باوجود میرے گھر پر حملہ کیا جاتا ہے۔گھر میں خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا جاتا ہے تو ایک عام اور غریب پاکستانی شہری کا کیا حال ہوگا، میری درخواست ہے کہ میری اس تحریک کو متعلقہ کمیٹی میں بھیجا جائے تاکہ مذکورہ بالا تمام تر واقعات کا جائزہ لے کر اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔

WhatsApp
Get Alert