خضدار پولیس اغوا کاروں کیخلاف کارروائی نہیں کررہی، بیٹی بازیاب نہ ہوئی تو دھرنا دیں گے، متاثرہ خاتون کی دہائی


خضدار(قدرت روزنامہ)خضدار کے علاقہ کانک کی رہائشی خاتون بی بی درخاتون نے اپنے خاندان کی دیگر خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 اپریل 2025 کی شب تقریباً چھ مسلح افراد ہمارے گھر میں داخل ہوکر میری 16 سالہ بیٹی نصرت بی بی کو اغواءکرکے لے گئے اس دوران مجھ سمیت گھر کی دیگر خواتین کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر سے موبائل وغیرہ بھی اٹھا کرلے گئے، اس دوران کھینچا تھانی میں ایک ملزم کے چہرے سے نقاب اتارا جس کی ہم نے آیف آئی آر پولیس تھانہ خضدار میں درج کرکے نشاندہی کی۔ مسماة درخاتون کا کہنا تھا کہ پولیس نے آیف آئی آر میں نامزد ایک ملزم کو ہماری نشاندہی پر گرفتار ضرور کیا ہے مگر اسے تھانے میں مہمانوں کی طرح رکھا گیا ہے، نہ اس سے تفتیش ہو رہی ہے اور نہ ہی پولیس مغویہ کو بازیاب کروا رہی ہے۔ میری بیٹی کے اغواءکو 20 دن گزرگئے ہیں ہم کس کرب و پریشانی سے دو چار ہیں، اللہ جانتا ہے، پولیس خصوصاً ایس ایچ او سٹی کی مبینہ غفلت، طرف داری اور مبینہ طور پر ملزم سے نرم رویہ رکھنے کی وجہ سے ہماری سولہ سالہ کم سن بیٹی نصرت نامزد ملزمان کے قبضے سے بازیاب نہیں ہوپا رہی ہے، ایف آئی آر میں نامزد ملزم صدام کے علاوہ دیگر جن ملزمان کو نامزد کیا ہے پولیس انہیں گرفتار کرنے سے پس وپیش سے کام لے رہی ہے۔ ہم وزیراعلیٰ بلوچستان، آئی جی پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی پولیس قلات رینج اور ایس ایس پی خضدار سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ گرفتار ملزم سے بہتر تفتیش کرکے مغویہ کو بازیاب کروائیں اگر پولیس آج صبح تک مغویہ کو بازیاب نہیں کرواتی تو صبح 8 آٹھ بجے ہم قرآن پاک ہاتھ میں لے کر کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دھرنا دیں گے اور اس وقت تک روڈ بلاک ختم نہیں کرینگے جب تک ہماری بیٹی کو بازیاب کرکے ملزمان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔ مسماة در خاتون کا کہنا ہے کہ جن ملزمان کی ہم نے ایف آئی آر میں نشاندہی کی ہے وہ با اثر ہیں، پولیس ان کیخلاف موثر کارروائی نہیں کررہی، جس سے ہمیں خدشہ ہے کہ ہماری بچی کو جانی نقصان نہ پہنچایا جائے۔

WhatsApp
Get Alert