پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کی یومِ مزدور کے حوالے سے کوئٹہ میں ہزاروں محنت کشوں کی ریلی وجلسہ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)کے حوالے سے بلوچستان میں سب سے بڑی ریلی اورجلسہ کوئٹہ میں پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن (PUWF) بلوچستان کے زیر اہتمام منائی گئی ریلی اور جلسہ فیڈریشن کے صدر علی بخش جمالی پیر محمد کاکڑکے سر براہی منعقد ہوئی۔ریلی ائریگیشن آفس چمن پھاٹک سے شروع ہو کر شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی پریس کلب کوئٹہ پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں فیڈریشن سے ملحقہ مختلف یونینوں کے کارکنان نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر محنت کشوں کے حقوق اور مسائل کے حوالے سے نعرے درج تھے۔جس نے بعد میں جلسے کی شکل اختیار کی،جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر علی بخش جمالی پیر محمد کاکڑنیشنل پارٹی کے ایڈوکیٹ چنگیز عبد الحی بی بی جان کاکڑممتاز مزدور قانون دان اعظم زرکون حاجی سیف اللہ ترین سلام زہری ارشد عباس ڈار حاجی عثمان علی شمس خلجی کریم فرہارہدایت اللہ درویش آغا سلطان شاہ ملک سعید لہڑی نے خطاب کیاجبکہ جلسے کی قراردادیں عزیز احمد سارنگزئی نے پیش کی۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محنت کشوں کے مسائل کے حل کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
مقررین نے بھی محنت کشوں کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔تمام کنٹرکٹ ملازمین کو ریگولر کیا جائے سرکاری اداروں کی نجکاری کے نام پرنیلامی بند کی جائیں۔تمام نجی اداروں میں محنت کشوں کی سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی میں رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے۔مائنز، بھٹہ خشت، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کے ورکرز کے لیے صحت و سلامتی کے اقدامات کو مؤثر بنایا جائے۔ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کر کے مستقل ملازمتیں فراہم کی جائیں۔ کم از کم اجرت کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے تمام محنت کشوں کو یونین سازی کا حق دیا جائے اور لیبر قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔63یونینز کو بحال کیا جائے پنشن کا پرانا نظام بحال کیا جائے تنخواوں میں سو فیصد اضافہ کیا جائے ہسپتالوں سکولوں میٹر پولیٹن بجلی کی تقسیم کار کمپیوں کی نجکاری روکی جائے کم از کم اجرت پرعمل درآمد کیا جائے بزگر کسان بھٹہ خشت ور کرز کو سو شل سیکورٹی کے دائرہ کار میں لایا جائے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پراداروں کی لوٹ کھسوٹ بند کی جائے
جلسے کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ محنت کشوں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ محنت کشوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔

WhatsApp
Get Alert