پی ٹی آئی رہنما صدام خان ترین کی ضمانت منظور، ژوب کی عدالت نے فوری رہائی کا حکم دے دیا

صدام ترین کی ضمانت کی منظوری پر کارکنان کی جانب سے بھرپور استقبال، پارٹی کے رہنماء کی رہائی پر خوشی کا اظہار


ہرنائی(قدرت روزنامہ)ہرنائی سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ضلعی صدر اور پارٹی کے مرکزی رہنما صدام خان ترین کی ژوب کی عدالت میں منظور۔ عدالت نے صدام ترین کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ اس موقع پر پارٹی کارکنان اور وکلا کی ایک بڑی تعداد موجود۔ پارٹی کارکنان اور وکلا کی جانب سے ضمانت منظور ہونے پر صدام ترین کو مبارکباد دیا گیا۔ اور انہیں ہار پہنائے۔ہرنائی 29 اپریل 2025 کو انسداد دہشت گردی عدالت کوئٹہ نے پی ٹی آئی ہرنائی کے ضلعی صدر اور پارٹی کے مرکزی رہنما صدام خان ترین کی ضمانت منظور کرتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ لیکن اسی دن 29 اپریل کو ضمانت ملنے کے بعد صدام ترین کو ایک اور کیس میں پولیس نے گرفتار کر کے ژوب منتقل کردیا تھا۔ جسے 30 اپریل کو ژوب اے ٹی سی عدالت نے 3 روژ کی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
ہرنائی پی ٹی آئی کے ضلعی صدر، 2024 کے انتخابات میں حلقہ این اے 253 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر اور پارٹی کے مرکزی رہنما صدام ترین کو ہرنائی پولیس نے 20 اپریل 2025 کو 31 جنوری 2025 کو ہرنائی گنج گراونڈ میں کئے جانے والے پارٹی کے جلسے کی وجہ سے ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔ گنج گراونڈ میں کئے جانے والے پی ٹی آئی کے جلسے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے ضلعی صدر صدام ترین سمیت 8 معلوم جبکہ 250/300 کے قریب نامعلوم الاسم بندوں پر ایف آئی آر درج ہوا تھا۔ہرنائی مورخہ 22 اپریل 2025 کو سیش عدالت ہرنائی میں صدام ترین کو ضمانت ملنے کے بعد کوئٹہ پولیس نے صدام ترین کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ کوئٹہ سول لائن تھانے لے گیا تھا۔ مورخہ 8/11/2024 کو کوئٹہ ہاکی چوک میں پی ٹی آئی کی جانب سے پارٹی چئیرمین عمران خان کی رہائی کے لئے کئے جانے والے جلسے اور ریلی کی وجہ سے کوئٹہ پولیس نے صدام ترین پر سول لائن تھانہ کوئٹہ میں ایف آئی آر درج کیا تھا۔ اس ایف آئی آر میں صدام ترین سمیت 300/400 کو نامزد کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا تھا۔ کہ انہوں پولیس پر پتھراو کیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert