کوئٹہ کے تندور مالکان نے انتظامیہ کی ریٹ نظر انداز‘ عوام کو لوٹنے کی پالیسی برقرار
انتظامیہ کی جانب سے ان کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد وہ پریس کلب آکر احتجاج پر بیٹھ گئے

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)کوئٹہ کے مختلف علاقو ں میں تندور مالکان نے انتظامیہ کی جانب سے ریٹ کو نہ صرف نظر انداز بلکہ روٹی کے وزن میں مزید کمی کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی پالیسی برقرار رکھی انتظامیہ کی جانب سے ان کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد وہ پریس کلب آکر احتجاج پر بیٹھ گئے اور ناجائز طریقے سے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کررہے ہیں جسے عوام نے روٹی کی قیمت اور احتجاج کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ان کیخلاف مکمل کریک ڈاؤن کیا جائے۔
واضح رہے کہ ضلعی انتظامیہ نے کوئٹہ کے تندور مالکان کو ایک نرخ نامہ دیا جس میں 360گرام روٹی کی قیمت 30روپے مقرر کیا تندور مالکان نے اسی ریٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دوبارہ چالیس روپے اور 280گرام دیا جائے جس پر انتظامیہ نے ان کی بات نہیں مانی اور جہاں تندو ر مالکان سرکاری نرخ کی خلاف ورزی کررہے تھے وہاں جا کر ان کا تندور سیل کیاتندور سیل ہونے کے بعد نانبائیان ایسوسی ایشن نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر احتجاج شروع کے اور مطالبہ کیا کہ ہمیں زیادہ کمانے کی اجازت دی جائے اور روٹی کی قیمت چالیس روپے کے ساتھ وزن میں بھی کمی کی جائے۔
