وندر بلوچستان ‘ ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ کا مرکز بن گیا

مسافر کوچز اور ایل پی جی گیس سے بھرے بازرز کے ذریعے مبینہ طور پر غیر قانونی ایرانی ایندھن سرعام اتارا جا رہا ہے

ایل پی جی گیس اور ایرانی پیٹرول کی ایک ہی مقام پر موجودگی کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے
شہر کو زندہ بم میں تبدیل کر دیا گیا کسی بھی وقت کوئی بڑا سانحہ ہوسکتا ہے، عوامی حلقے


وندر(قدرت روزنامہ)وندر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ کا مرکز بن گیا ۔ قانون کو کھلم کھلا چیلنج وندر کو زندہ بم میں تبدیل کر دیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق مکران سے کراچی چلنے والی مسافر کوچز اور ایل پی جی گیس سے بھرے بازرز کے ذریعے مبینہ طور پر غیر قانونی ایرانی ایندھن سرعام اتارا جا رہا ہے ۔
انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ بن گیا ۔ وندر میں منی پیٹرول پمپس کی بھرمار ایل پی جی گیس اور ایرانی پیٹرول کی ایک ہی مقام پر موجودگی کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے ۔ ان دونوں جان لیوا مواد کی قربت میں معمولی سی چنگاری تباہ کن دھماکے کا باعث بن سکتی ہے ۔ جہان کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعہ رونما ہو سکتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں ۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لیٹر ایرانی تیل غیر قانونی طور پر وندر پہنچایا جا رہا ہے ۔
جہاں غیر قانونی ایندھن کو کھلے عام فروخت کیا جا رہا ہے ۔ جس سے ملکی معیشت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے ۔ جبکہ عوام کی زندگیاں بھی شدید خطرے میں پڑ چکی ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی ادارے فوری طور پر اس غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائی کریں ۔ عوامی تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک کو ختم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے ۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وندر میں کسی بھی وقت بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے ۔

WhatsApp
Get Alert