محکمہ اوقاف کوئٹہ کی جانب سے بغیر نوٹس دکانوں کو سیل کرنا قابل مذمت ہے، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے محکمہ اوقاف کوئٹہ کے حکام کی طرف سے بغیر کسی نوٹس کے رات کے اندھیرے میں دکانوں کوسیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سیل کی گئی دکانوں کو فوری طور پر کھولا جائے بصورت دیگر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان احتجاج اورشٹرڈاون ہڑتال پر مجبور ہوگی۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کومیر یاسین مینگل ،حاجی محمد الیاس،حاجی منظور،حاجی حبیب اللہ،حاجی نقیب،اکرام خان، کلیم اللہ اوردیگر دکانداروں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں محکمہ اوقاف کی جائیدادوں اور دکانوں میں کوئٹہ کے مقامی لوگ گزشتہ کئی دہائیوں سے کاروبار کررہے ہیں اور قوانین کے مطابق قواعد و ضوابط کے تحت انہیں ماہانہ بنیادوں پر مقرر کردہ کرایہ ادا کرتے ہیں ،محکمہ اوقاف کوئٹہ بلوچستان کے حکام نے بغیر کسی نوٹس کے دکانداروں کو آگاہ کئے بغیر رات کے اندھیرے میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے تمام علاقوں جناح روڈ، مسجد روڈ، فاطمہ جناح روڈ، منصفی روڈ، شاوکشاہ روڈ، پرنس روڈ، اسٹیورٹ روڈ پر موجود 36 دکانوں کو بلا جواز طور پر کرایہ کا بہانہ بناکر سیل کردیا اور ذاتی طور پر دکانداروں کو سیل کھولنے کے حوالے سے بارگینگ کرکے پیسے مانگے جارہے ہیں اور اس کے لئے سرکاری اکاو¿نٹ کی بجائے اپنے ذاتی اکاو¿نٹ اور ایزی پیسہ کے نمبرزدیئے جاتے ہیں اوریہ عمل بلیک میلنگ کیلئے اپنایا جارہا ہے جس کی مرکزی انجمن تاجران بلوچستان سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ دکاندار گورنمنٹ قواعد و ضوابط قوانین کے مطابق سالانہ بڑھنے والے 8 فیصد کرایہ کے تحت کرایہ بڑھا کر محکمہ کے پاس جمع کراتے ہیں جس کی تمام رسیدیں ہمارے پاس موجود ہے ایک بار پھر انہوں نے یک قلم جنبش پرانی روش کو برقرار رکھتے ہوئے 2006ءمیں دکانوں کے 8000 فیصد بڑھائے گئے کرایہ کو جواز بناکر دکانداروں کو 65 سے 80 لاکھ روپے کے دکانداروں سے بقایا جات کی مد میں وصولی کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ ہمارا اس ماہ تک کاکرایہ محکمہ کے پاس جمع ہے اس کے باوجود رات کی تاریکی میں دکانوں پر نوٹس چسپا کرکے دکانوں کو سیل کیا گیا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور یہ عمل محکمہ اوقاف کا صوبائی دفتر کے متعلقہ حکام بلوچستان کے تاجروں کو بیروزگار کرنے کے لئے اپنا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور محکمہ اوقاف کی جانب سے کوئٹہ میں سیل کی جانے والی دکانوں کو فوری طور پر ڈی سیل نہ کیا گیا تو تاجر برادری احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہوئے بھر پور طریقے سے شٹر ڈاو¿ن ہڑتال، احتجاجی مظاہرے، ریلی اور دھرنا دینے پر مجبور ہوگی جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری محکمہ اوقاف بلوچستان پر عائد ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert