حکومت بلوچستان اپنی بساطِ کے مطابق نوجوانوں کے لیے بے شمار پروگرامز ارینج کروا چکی ہے ،مینا مجید بلوچ

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)صوبائی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان یوتھ پالیسی 2024 کا باقاعدہ اجرا نوجوانوں کے لیے ایک انقلابی قدم ہے اور اسکو ڈرافٹ سے ایک جامع اور مکمل دستاویز بنانے میں تمام محکمہ یوتھ افئیرز کی ٹیم داد کی مستحق ہے۔ اس کو مرتب کرنے اور ایک مربوط پالیسی بنانے میں وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سینیٹر میر جمال رئیسانی، سابقہ سیکرٹری کھیل و آمور نوجوانان ڈاکڑ جاوید انور شاہوانی، موجودہ سیکرٹری کھیل و آمور نوجوانان درا دشتی، ڈائریکٹر یوتھ الیاس شاد بلوچ اور دیگر ٹیم کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے جب سے اس اہم محکمہ کی بھاگ دوڑ سنبھالی ہے نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدان ہوں یا غیر نصابی سرگرمیاں یا دیگر تفریحی مواقع حکومت بلوچستان اپنی بساطِ کے مطابق نوجوانوں کے لیے بے شمار پروگرامز ارینج کروا چکی ہے کیونکہ موجودہ صوبائی حکومت میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں نوجوانوں کو معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ سمجھتی ہے ان سے معاشی نمو اور سماجی شعور فروغ پاتی ہے انہوں نے کہا بغیر یوتھ پالیسی کے وہ سمت مزید مربوط ہوگی جو نہ صرف ان کے مسائل کے حل کی جانب پیش رفت ہے بلکہ ان کی سماجی، تعلیمی اور معاشی ترقی کو بھی نئی جہت دے گا۔ یہ پالیسی وزیر اعلی میر سر فراز احمد بگٹی کی وژنری قیادت اور نوجوانوں کے ساتھ ان کی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
محترمہ مینا مجید بلوچ نے بتایا کہ یوتھ پالیسی کی تیاری کے دوران مختلف اضلاع میں نوجوانوں، ماہرین، اساتذہ، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی تاکہ اس پالیسی میں زمینی حقائق اور مقامی ضروریات کی حقیقی عکاسی ہو۔ اس مشاورتی عمل نے اس پالیسی کو ایک جامع، مربوط اور قابل عمل فریم ورک کی شکل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان یوتھ پالیسی 2024 کے اہم نکات میں تعلیمی مواقع کی بہتری، ہنر مندی کے فروغ، فنی تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں کی فراہمی، کھیلوں کے فروغ، روزگار کے مواقع، ذہنی صحت کی بہتری، قیادت و فیصلہ سازی میں نوجوانوں کی شمولیت، اور ماحولیاتی شعور بیدار کرنے جیسے عناصر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کے تحت ضلعی اور تحصیل سطح پر یوتھ سینٹرز قائم کیے جائیں گے،
جہاں نوجوانوں کو کونسلنگ، کیریئر گائیڈنس اور انٹرپرینیورشپ سپورٹ فراہم کی جائے گی۔ علاوہ ازیں، نوجوانوں کے لیے لیڈرشپ پروگرامز، یوتھ کونسلز، اور دیگر پلیٹ فارمز مہیا کیے جائیں گے تاکہ وہ سماجی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف نعروں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ پالیسی پر عملدرآمد کے لیے واضح روڈمیپ، ٹائم لائن اور مانیٹرنگ میکانزم وضع کیا گیا ہے تاکہ ہر قدم پر شفافیت اور احتساب یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ ضرورت صرف ان کی رہنمائی، مواقع اور اعتماد دینے کی ہے۔ بلوچستان یوتھ پالیسی 2024 اسی سمت میں ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد فراہم کرے گی۔
