کوئٹہ میں پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا، ٹینکر مافیا نے نرخ بڑھا دیے، شہری سراپا احتجاج

ضلعی انتظامیہ اور واسا خاموش تماشائی، پانی کے ایک ٹینکر کی قیمت 3000 روپے تک جا پہنچی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ شدید گرمی کے لپیٹ میں ان دنوں شدید پانی کے بحران کا شکار ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور واسا کی نااہلی کے باعث ٹینکر مافیا نے صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پانی کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پانی کے ایک ٹینکر کی قیمت 2000 سے بڑھ کر 2500 اور اب 3000 روپے تک جا پہنچی ہے، جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔
کوئٹہ کے نواحی اور اندرونی علاقوں میں واسا کی جانب سے پانی کی باقاعدہ فراہمی مکمل طور پر بند ہے، جس کی وجہ سے شہری نجی ٹینکرز کے رحم و کرم پر ہیں۔ شیرانی، سریاب، نواں کلی، کاسی روڈ، پشتون آباد، اسپینی روڈ، بروری روڈ، ہزارہ ٹان، کچلاک اور دیگر علاقوں کے مکین روزانہ پانی کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔
شہریوں نے شکوہ کیا کہ ضلعی حکومت اور واسا کی ناقص حکمت عملی اور عدم توجہی کے باعث نہ صرف پانی نایاب ہو چکا ہے بلکہ نجی مافیا کی چاندی ہو گئی ہے۔ پانی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے باوجود کوالٹی اور مقدار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ متعدد علاقوں میں ناقص اور آلودہ پانی کی فراہمی سے مختلف بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں۔
شہریوں نے حکومت بلوچستان، واسا حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی سرکاری فراہمی کو فوری طور پر بحال کیا جائے، ٹینکر مافیا کے خلاف کریک ڈان کیا جائے اور پانی کی قیمتوں کو کنٹرول میں لایا جائے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert