بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی بندش، کوئٹہ میں متعدد پمپ بند، لوگوں کو مشکلات

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)ایرانی پیٹرول کی بندش کے بعد شدید بحران، کوئٹہ شہر اور گردونواح میں پیٹرول نایاب، مریضوں کی اسپتال منتقلی تک متاثر۔ گزشتہ رات سے کوئٹہ شہر میں صرف 4 پیٹرول پمپس کھلے رہے جس کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی بندش کے بعد کوئٹہ اور گردونواح میں پیٹرول کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے۔ بیشتر پیٹرول پمپ بند پڑے ہیں جبکہ چند فعال پمپس پر طویل قطاریں، بدنظمی اور ہجوم کی صورتحال ہے۔ شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوچکے ہیں۔ پیٹرول کی قلت کا سب سے زیادہ اثر غریب طبقے، رکشہ ڈرائیورز اور ایمرجنسی میں مبتلا مریضوں پر پڑا ہے۔ شہر کے وسطی علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ایک بیمار شخص کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے لوگ رکشے کو دھکا دے رہے تھے۔ رکشہ ڈرائیور اور شہریوں کا کہنا تھا کہ پیٹرول نایاب ہونے کے باعث رکشے بند ہوچکے ہیں، جبکہ اسپتالوں تک مریضوں کی بروقت رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ پیٹرول کی عدم دستیابی کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، اسکول و کالج جانے والے طلبہ، دفاتر کے ملازمین اور کاروباری افراد بھی شدید پریشان ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ تقریباً بند ہو چکی ہے جبکہ نجی گاڑیوں کو پیٹرول نہ ملنے کی وجہ سے سڑکیں سنسان دکھائی دے رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایرانی پیٹرول پر بلوچستان کی معیشت اور روزمرہ زندگی کا بڑا انحصار ہے، لیکن اس کی بندش نے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت سے فوری مداخلت اور پیٹرول کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پیٹرول پمپوں پر چھاپوں یا کسی بھی قسم کی ہنگامی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی، جس سے شہریوں میں مزید بے چینی اور غم و غصے کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے حکام بالا سے فوری نوٹس لینے، ایمرجنسی سہولیات کو بحال کرنے اور پیٹرول کی ترسیل یقینی بنانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے، تاکہ شہری مزید مشکلات کا شکار نہ ہوں۔
