یونیورسٹی آف بلوچستان شدید مالی بحران کاشكار،بقاء خطرے مىں پڑ گئى ،وائس چانسلر کا وزیر اعلیٰ کو خط


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)یونیورسٹی آف بلوچستان شدید مالی بحران، انتظامی مسائل اور تعلیمی چیلنجز کے باعث اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ وائس چانسلر کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو لکھے گئے خط میں ادارے کی ابتر صورتحال اور فوری حکومتی توجہ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی 2019 سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشن اور واجبات کی ادائیگی سے قاصر ہے جبکہ پی ایچ ڈی تھیسس ایویلیوایشن، امتحانی اخراجات، اسٹیشنری اور دیگر بلز بھی گزشتہ پانچ سالوں سے زیر التوا ہیں۔
یونیورسٹی میں اس وقت 10,000 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، 53 شعبہ جات، 6 فیکلٹیز اور کئی مخصوص تحقیقی مراکز قائم ہیں تاہم ناکافی فنڈنگ اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ وائس چانسلر نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر جامعہ کی مالی مدد کریں تاکہ اس تعلیمی ادارے کو بچایا جا سکے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان کے نوجوانوں کی تعلیمی امیدوں کا مرکز ہے۔

WhatsApp
Get Alert