گوادر میں بارشیں نہ ہونے سے خشک سالی اور قلت آب کے مسائل: وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)گوادر میں بارشوں کی کمی کی وجہ سے خشک سالی اور پانی کی قلت کے مسائل شدت اختیار کر گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں گوادر میں پانی کے بحران کے حوالے سے فوری اور طویل المدتی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جاری آبی منصوبوں کو تیز کیا جائے اور تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے تاکہ پانی کے بحران کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ انہوں نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے واٹر سیلینیشن پلانٹ کو 3 لاکھ گیلن یومیہ کی سطح پر بحال کرنے کی اطلاع دی۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے بتایا کہ اگلے تین دنوں میں پلانٹ کی استعداد 6 لاکھ گیلن یومیہ تک بڑھا دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کی بندش کے دوران واٹر پلانٹ کو متبادل توانائی پر منتقل کر کے آبی ترسیل کو بلا تعطل جاری رکھا جائے۔ اسی طرح، شادی کور ڈیم سے پانی کی ترسیل کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبی پائپ لائن منصوبے 15 روز میں مکمل کیے جائیں گے اور قلت آب سے نمٹنے کے لیے چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی کی سربراہی میں ایک رابطہ کمیٹی قائم کی جائے گی، جو روزانہ کی بنیاد پر سی ایم سیکرٹریٹ کو پیش رفت کی رپورٹ فراہم کرے گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گوادر میں پانی کی قلت کا مسئلہ ہر صورت حل کیا جائے گا اور کوئی بھی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل بندش پر وزیر اعظم اور پاور ڈویژن سے بات کی جائے گی۔
**ان تمام اقدامات کے ساتھ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آبی صورتحال کی پیش رفت کی خود نگرانی کریں گے اور عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔**
