بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، ڈپٹی کمشنرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان ہائیکورٹ نے صوبائی کابینہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ انتظامیہ کو عدالتی اختیارات دینا آئین کے آرٹیکل 175(3) (عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے افتخار احمد لنگو ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر یہ حکم جاری کیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی کابینہ نے 24 ستمبر 2025 کو ایک فیصلے کے ذریعے انتظامی افسران کو عدالتی اختیارات دیے جو نہ صرف آئین کی روح کے منافی ہے بلکہ ضابطہ فوجداری 1898 کے سیکشن 14 کے تحت کابینہ کو ایسے اختیارات دینے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
درخواست گزار نے عدالت کی توجہ 2012 کے ایک عدالتی فیصلے (PLD 2012 Balochistan 57) کی جانب بھی مبذول کرائی جس میں انتظامیہ کی جانب سے عدالتی اختیارات کے استعمال کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل کو منظور کرتے ہوئے اسے باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے صوبائی کابینہ کے 24 ستمبر 2025 کے فیصلے پر عملدرآمد تاحکم ثانی معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو بھی معاونت کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔
