کوئٹہ محکمہ یوتھ افیئرز کے فنڈز فلاح کے بجائے تشہیر پر خرچ، مشیر مینا مجید کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان میں یوتھ افیئرز کا محکمہ، جو دراصل نوجوانوں کی فلاح، ترقی، روزگار، تربیت اور کھیلوں کے فروغ کے لیے بنایا گیا تھا، وہ آج خود شدید تنقید کی زد میں ہے۔ حالیہ دنوں میں نہ صرف عوامی حلقوں بلکہ بلوچستان اسمبلی کے فلور پر بھی اراکین اسمبلی نے محکمہ کھیل و امور نوجوانان اور خصوصاً صوبائی مشیر مینا مجید بلوچ کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
ذرائع کے مطابق محکمہ یوتھ افیئرز کے فنڈز کو نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے بجائے، مشیر موصوفہ کی تشہیر پر خرچ کیا جا رہا ہے شہر بھر میں رنگ برنگے اشتہارات، مہنگے سائن بورڈز اور مختلف تقریبات میں صرف مشیر کی تصاویر اور نعرے بازی پر کروڑوں روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ عملی طور پر نہ کوئی یوتھ ٹریننگ پروگرام ہے، نہ اسکل ڈویلپمنٹ کورسز، اور نہ ہی کھیلوں کی سہولیات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ یہ طرزِ حکمرانی صرف بددیانتی اور مالی بے ضابطگیوں کی مثال ہی نہیں بلکہ نوجوانوں کے ساتھ سنگین ناانصافی بھی ہے۔
بلوچستان جیسے پسماندہ اور محروم صوبے میں جہاں ہزاروں نوجوان تعلیم، روزگار اور اسپورٹس سہولیات کے منتظر ہیں، وہاں حکومت کی ذمہ داری تھی کہ یوتھ افیئرز کے وسائل صحیح معنوں میں ان نوجوانوں پر خرچ کیے جاتے مگر افسوس کہ صوبائی مشیر نے ان قیمتی وسائل کو اپنی ذاتی برانڈنگ کے لیے استعمال کیا غیر ملکی دوروں کی تصاویر، مہنگے فوٹو سیشنز، اور سوشل میڈیا پر خود کو “یوتھ چیمپئن” کے طور پر پیش کرنا—یہ سب کچھ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کیا جا رہا ہے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ متعدد منصوبے جن کا اعلان کیا گیا، وہ یا تو زمین پر موجود نہیں یا محض کاغذوں کی حد تک ہیں۔
محکمہ یوتھ افیئرز کے تحت یوتھ سینٹرز، ٹریننگ انسٹیٹیوٹس اور گرانٹس اسکیمز کے اعلانات کیے گئے مگر ان پر عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی اسمبلی اجلاس کے دوران بھی اراکین نے کہا کہ کھیل کے میدان ویران ہیں، نوجوان پریشان ہیں، اور فنڈز اشتہار بازی پر اڑائے جا رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو نوجوانوں میں مایوسی بڑھے گی اور حکومت کے خلاف عوامی ردعمل میں شدت آ سکتی ہے۔
عوامی، صحافتی و سیاسی حلقوں نے نگران وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کی جائیں، مشیر یوتھ افیئرز سے جواب طلبی کی جائے اور فنڈز کے غیر شفاف استعمال پر متعلقہ اداروں کو متحرک کیا جائے۔ نیز، نوجوانوں کے لیے حقیقی اقدامات، اسکیمز، تربیتی مواقع اور کھیلوں کی بحالی کو فوری یقینی بنایا جائے تاکہ یہ محکمہ دوبارہ اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹ سکے۔
