کوئٹہ ‘ کوئٹہ میں نیشنل یوتھ سمٹ پر بجٹ کا سوال، سیکرٹری کھیل درا بلوچ بلوچستان میڈیا پر برہم، صرف تعریفی صحافیوں کو آنے کی دعوت

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)نیشنل یوتھ سمٹ کے دوران شفافیت کا سوال اٹھانا سیکرٹری کھیل بلوچستان درا بلوچ کو مہنگا پڑ گیا۔ سمٹ کے بجٹ سے متعلق ایک سادہ سے سوال نے انہیں اس قدر برہم کر دیا کہ انہوں نے نہ صرف تنقیدی سوال کرنے والے صحافیوں پر اپنے دروازے بند کرنے کا اشارہ دے دیا بلکہ یہ “خواہشِ نایاب” بھی ظاہر کی کہ ان کے پاس صرف وہی صحافی آئیں جو ان کی کارکردگی کی تعریفوں کے پل باندھ سکیں۔
یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب کوئٹہ میں جاری نیشنل یوتھ سمٹ کے دوران ایک صحافی نے سیکرٹری کھیل درا بلوچ سے استفسار کیا، “جناب، یوتھ سمٹ پر کتنا بجٹ خرچ ہوا؟” یہ سوال سننا تھا کہ سیکرٹری صاحب کے چہرے کے تاثرات بدل گئے اور انہوں نے جواب دینے کے بجائے صحافی کو ہی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ گفتگو کا محور شفافیت اور جوابدہی سے ہٹ کر انا اور ذاتی پسند ناپسند کی نذر ہوگیا۔
محکمہ کھیل اور کرپشن کے الزامات: پس منظر کیا ہے؟
یاد رہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے محکمہ کھیل بلوچستان، بشمول وزیر کھیل اور دیگر اعلیٰ افسران، فنڈز میں مبینہ خرد برد کے سنگین الزامات کی زد میں ہیں۔ یہ معاملہ بلوچستان اسمبلی تک بھی پہنچا، جہاں اراکین اسمبلی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “محکمہ کھیل میں پیسہ کھیل بن گیا ہے۔” اس دوران نہ صرف وزیر کھیل بلکہ محکمے کے دیگر افسران کو بھی کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
سوال پوچھنا گستاخی، تعریف کرنا معیار؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری کھیل کا دفتر اکثر مخصوص صحافیوں اور سوشل میڈیا پر ان کی حمایت کرنے والوں سے بھرا رہتا ہے، جو مبینہ طور پر سرکاری بیانیے کو “خبر” بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب بھی کوئی صحافی تنقیدی سوال اٹھاتا ہے یا محکمے کی کارکردگی پر انگلی اٹھاتا ہے تو اسے “بلیک میلر” یا منفی ذہنیت کا حامل قرار دے دیا جاتا ہے۔
یوتھ سمٹ کے دوران بھی کچھ ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا۔ جب ایک مقامی ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندے نے بجٹ کے حوالے سے سوال کیا تو سیکرٹری صاحب نے پہلے صحافی کے ادارے کا لوگو دیکھا اور پھر طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ایسے تاثرات دیے جیسے کہہ رہے ہوں، “تمہاری پہچان ہو گئی ہے، کیمرے بند ہونے دو، پھر تمہیں دیکھتے ہیں۔”
یہ واقعہ بلوچستان میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کام کرنے والے سرکاری اداروں میں احتساب اور شفافیت کی صورتحال پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ جہاں نوجوانوں کو کھیلوں کے مواقع فراہم کرنے کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، وہیں افسر شاہی کا طاقت اور انا کا کھیل اس پورے نظام پر حاوی نظر آتا ہے، ایک ایسا میدان جہاں سوال پوچھنا “گستاخی” اور تعریف کرنا ہی “کامیابی” کا واحد معیار سمجھا جاتا ہے۔
