بلوچستان میں کرپشن پر بڑا کریک ڈاؤن: گریڈ 16 سے 21 تک کے تمام افسران کے اثاثوں کی چھان بین کا فیصلہ

افسران سے گھر، فارم ہاؤسز، بینک بیلنس اور بیرون ملک جائیدادوں کی تفصیلات طلب


حساس اداروں کے ساتھ معلومات شیئر کی جائیں گی، غلط بیانی پر سخت قانونی کارروائی کا انتباہ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت)بلوچستان حکومت نے صوبے میں کرپشن اور غیر قانونی اثاثہ جات کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے گریڈ 16 سے لے کر گریڈ 21 تک کے تمام سرکاری افسران کے اثاثوں کی مکمل چھان بین کا حکم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، تمام افسران سے ان کے اور ان کے اہلخانہ کے نام پر موجود جائیدادوں، بینک اکاؤنٹس اور دیگر اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ ان اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں تعینات بڑی تعداد میں سرکاری افسران مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث ہیں اور انہوں نے اپنے معلوم ذرائع آمدن سے کہیں زیادہ اثاثے بنا رکھے ہیں۔
حکومتی فیصلے کے تحت تمام افسران کو مندرجہ ذیل تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے:
رہائشی گھر، فارم ہاؤسز اور دیگر جائیدادیں
تمام بینک اکاؤنٹس اور ان میں موجود بیلنس
ان کے اور اہلخانہ کے نام پر رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد
بیرون ملک موجود جائیدادوں کی تفصیلات
دوہری شہریت (Dual Nationality) کی معلومات
ذرائع کے مطابق، افسران کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا اور معلومات کو مزید جانچ پڑتال کے لیے حساس اداروں کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔ حساس ادارے ان تفصیلات کی اپنے ذرائع سے تصدیق کریں گے اور ایک جامع رپورٹ تیار کرکے حکومت کو پیش کریں گے۔حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ جو بھی افسر تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا یا اس کے خلاف غلط بیانی ثابت ہوئی، اس کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس بڑے اقدام کو صوبے میں شفافیت کو فروغ دینے اور بیوروکریسی کے اندر احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert