بلوچستان کے صارفین پر نیا بوجھ — قدرتی گیس استعمال کرنے والوں سے بھی آر ایل این جی نرخ وصول کیے جائیں گے

نئے کنکشنز پر درآمدی گیس کے ریٹ لاگو، گھریلو بل 30 ہزار روپے تک پہنچنے کا خدشہ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان کے عوام پر ایک اور معاشی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے نئے کنکشنز آر ایل این جی (RLNG) کی بنیاد پر دینے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت بلوچستان میں نئے میٹر لگوانے والے صارفین کو قدرتی گیس کے بجائے درآمدی گیس کے نرخوں پر بل وصول کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ہر نیا گیس کنکشن ’’آر ایل این جی بیسڈ‘‘ تصور کیا جائے گا، چاہے متعلقہ علاقے میں تاحال قدرتی گیس (نیچرل گیس) ہی فراہم کی جا رہی ہو۔ حیران کن طور پر صارفین کو اس پالیسی سے لاعلم رکھا گیا ہے، جس کے باعث بلوچستان کے مختلف اضلاع میں نیا میٹر لگوانے والے صارفین کو آئندہ مہینوں میں بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
گیس کمپنی کے ایک ذمہ دار افسر نے بتایا کہ آر ایل این جی نرخ لاگو ہونے کے بعد فی یونٹ تقریباً 118 روپے کا فرق آئے گا، جس سے گھریلو صارفین کے بل 25 سے 30 ہزار روپے ماہانہ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
اوگرا (OGRA) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق قدرتی گیس کا گھریلو ٹیرف 7 سے 10 روپے فی یونٹ ہے جبکہ آر ایل این جی کی قیمت 125 سے 130 روپے فی یونٹ کے درمیان ہے۔ یہی قیمت کا فرق بلوچستان کے صارفین کے لیے شدید مالی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
اصولی طور پر وفاقی کابینہ نے آر ایل این جی کنکشنز صرف بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور صنعتی منصوبوں کے لیے منظور کیے تھے، تاہم اوگرا نے اس پالیسی کو پورے ملک پر نافذ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ غیر منطقی، غیر آئینی اور صوبائی حقوق کے منافی ہے۔
واضح رہے کہ آر ایل این جی گیس حکومتِ پاکستان قطر سے درآمد کر رہی ہے، جس کی لاگت مقامی گیس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
سیاسی اور عوامی حلقوں نے اس فیصلے کو ’’دوہرا معیار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی گیس رکھنے والے صوبے میں درآمدی گیس کے نرخ لاگو کرنا ناانصافی اور استحصالی عمل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’بلوچستان کے عوام سے وہی گیس مہنگی بیچی جا رہی ہے جو انہی کی زمین سے نکلتی ہے۔‘‘
سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور عوامی نمائندوں نے وفاقی حکومت اور اوگرا سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے صارفین کو اس پالیسی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور قدرتی گیس استعمال کرنے والوں سے صرف مقامی ٹیرف کے مطابق بل وصول کیے جائیں۔

WhatsApp
Get Alert