بلوچستان کے ساتھ وفاق کی ایک اور زیادتی! سردیاں شروع ہوتے ہی گیس لوڈشیڈنگ میں اضافہ، عوام پریشان — عدالت عالیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے عوام کے ساتھ ایک اور زیادتی سامنے آ گئی۔ سردی کے آغاز کے ساتھ ہی صوبے بھر میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گیس پریشر میں کمی اور اکثر علاقوں میں مکمل بندش نے عوام کو بلبلا اٹھنے پر مجبور کر دیا۔
کوئٹہ، سبی، پشین، زیارت، مستونگ، لورالائی، اور قلعہ سیف اللہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں گھریلو صارفین گیس کی بندش سے تنگ آ چکے ہیں۔ سردی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی گھروں میں کھانا پکانا، بچوں کے لیے ناشتہ تیار کرنا اور بزرگوں کے لیے پانی گرم کرنا ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔
عوامی حلقوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گیس بلوچستان سے نکلتی ہے لیکن سب سے زیادہ محرومی اسی صوبے کے عوام کا مقدر بنا دی گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایک بار پھر بلوچستان کو نظرانداز کر کے ناانصافی کی ہے۔
گیس حکام نے عوامی شکایات کے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ *گیس لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے کیا گیا ہے*، جس کے تحت سرد علاقوں میں گیس کی فراہمی کو “قومی ضرورت” کے مطابق منظم کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ تاہم اس وضاحت نے عوامی غصہ مزید بڑھا دیا ہے۔
عوام، سیاسی و سماجی رہنماؤں نے عدالتِ عالیہ بلوچستان سے *ازخود نوٹس لینے* کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صوبے کے عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کا سدباب ہو اور سردی کے موسم میں گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتِ حال برقرار رہی تو بلوچستان میں گیس بحران شدید تر ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں عوامی احتجاج کی لہر پورے صوبے میں پھیل سکتی ہے۔
