بلوچستان اور خیبرپختونخوا بدترین گورننس بحران کا شکار، امن و امان تباہ ہوچکا ہے، مولانا عبدالواسع

موجودہ حکومت اپنی دو سالہ کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرے، عوامی بہبود کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا، جے یو آئی رہنماؤں کا بیان


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)
جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا اس وقت بدترین گورننس بحران کا شکار ہیں، امن و امان تباہ ہوچکا ہے، محکمے مفلوج اور عوام شدید مایوسی کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی دو سالہ کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرے کہ بلوچستان کو کیا دیا گیا، کون سا ترقیاتی منصوبہ شروع ہوا، وفاق میں صوبے کے حق میں کون سا مقدمہ لڑا گیا اور عوامی بہبود کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے؟
جے یو آئی رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے “بیڈ گورننس” کو سابقہ حکومتوں پر ڈالنا دراصل اپنی ناکامی چھپانے کا بہانہ ہے۔ بدانتظامی کا یہ بحران جے یو آئی کے دور کے بعد شروع ہوا، جب کہ ہمارے دور میں نظام میرٹ، شفافیت اور عوامی خدمت کے اصولوں پر استوار تھا۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے دور میں صوبائی وسائل میں تاریخی اضافہ ہوا، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ بڑھایا گیا، اور صوبائی بجٹ چند ارب سے ہزار ارب تک پہنچایا گیا جو ہماری جدوجہد کا ثمر ہے۔
مولانا عبدالواسع نے مزید کہا کہ ریکوڈک منصوبے پر جے یو آئی نے اصولوں کی خاطر اقتدار قربان کیا، اور سی پیک کے معاملے پر ہمارا کردار تاریخ کا سنہری باب ہے۔ موجودہ حکومت سیاسی انتقام، اقرباپروری اور نااہلی میں مصروف ہے، جس سے صوبہ شدید سیاسی و انتظامی بحران میں ڈوب چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام وہ واحد جماعت ہے جو صوبے کے وسائل کی حقیقی امین اور عوام کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، صوبے کو ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کی ضمانت صرف جے یو آئی کے پاس ہے۔

WhatsApp
Get Alert