کوئٹہ سیف سٹی ‘ 8 سو کیمروں میں سے 600 کیمرے خراب
9 ارب روپے خرچ مگر نتیجہ ؟ PACبرہم ‘ سخت سوالات پوچھ لئے

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ، محکمہ اطلاعات اور جیل خانہ جات سے متعلق آڈٹ پیراز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں اراکین ولی محمد نورزئی، غلام دستگیر بادینی، محمد خان لہڑی، صفیہ بی بی، ایاز مندوخیل، سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی عمران خان، ڈی جی آڈٹ بلوچستان شجاع علی، ڈی آئی جی جیل خانہ جات ضیاء ترین، ڈی جی پی آر بلوچستان محمد نور کھیتران اور دیگر افسران شریک ہوئے۔
کمیٹی نے کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ میں 2.280 ارب روپے کے غیر قانونی ٹھیکے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ ٹھیکہ NRTC کے بجائے غیر شفاف انداز میں SCO کو دیا گیا، حالانکہ NRTC نے زیادہ تکنیکی و مالی نمبر حاصل کیے تھے۔
چیئرمین اصغر علی ترین نے کہا کہ “800 میں سے 600 کیمرے غیر فعال ہیں، 9 ارب روپے خرچ ہوئے مگر عوام کو تحفظ نہیں مل سکا، یہ منصوبہ مالی بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی کی بدترین مثال ہے۔”
اراکین نے کہا کہ سیف سٹی حکام نے رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 1.7 ارب روپے کے منصوبے کو چار مرتبہ بڑھا کر 9 ارب تک پہنچایا۔ حاجی محمد خان لہڑی نے کہا کہ “یہ عوامی پیسے کی کھلی بربادی ہے، ڈرائنگ رومز کے ٹھیکیداروں کا کلچر ختم ہونا چاہیے۔”
صفیہ بی بی نے کہا کہ “غریب صوبے میں اتنی بڑی رقم ضائع ہونا سمجھ سے بالاتر ہے، محکمے کے جوابات غیر تسلی بخش ہیں۔”
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ PAC خود منصوبے کا معائنہ کرے گی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کو ایک ماہ میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ رپورٹ غیر تسلی بخش ہونے کی صورت میں کیس نیب کے سپرد کیا جائے گا۔
