دہشتگردی آپریشنز میں ‘کولیٹرل ڈیمیج’ کسی صورت قابل قبول نہیں، علی امین گنڈاپور
عوام کو اعتماد میں لیے بغیر اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے مقامی آبادی مخالف ہو رہی ہے، 'صوبائی ایکشن پلان' پر عمل کیا جائے، سابق وزیر اعلیٰ کا مطالبہ

پشاور ( قدرت نیوز ) سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور، نے دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں میں عام شہریوں کا جانی نقصان یا ‘کولیٹرل ڈیمیج’ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ دہشتگرد آبادیوں میں پناہ لیتے ہیں، لیکن جب سیکیورٹی فورسز ان کے خلاف بھاری ہتھیار، مارٹر اور گولے استعمال کرتی ہیں، تو اس سے عام شہری شہید ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ حکمت عملی الٹا نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ اس سے مقامی آبادی ریاست کی حامی ہونے کے بجائے مخالف ہو رہی ہے۔
انہوں نے اپنے دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی ایک ‘صوبائی ایکشن پلان’ تیار کیا تھا جس کے تحت سی ٹی ڈی اور پولیس نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر زمینی آپریشنز (IBOs) کیے، جس سے دہشتگردوں کا خاتمہ بھی ہوا اور کوئی کولیٹرل ڈیمیج بھی نہیں ہوا۔

علی امین گنڈاپور نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت موجودہ آپریشنز میں مقامی آبادی اور جرگوں کو اعتماد میں لے اور ان کے تیار کردہ صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرے، جو خیبر پختونخوا کے مخصوص حالات کے مطابق بنایا گیا ہے۔اس سے قبل انہوں نے ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی نہ ہونے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان نفرت اور فاصلے پیدا ہو رہے ہیں جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔
