غیر آئینی و غیر جمہوری طرز حکمرانی ملک کو بحرانوں سے دوچار کر رہی ہے، نجات آئین کی بالادستی اور محمود خان اچکزئی کے نکات پر عمل سے ممکن ہے — پشتونخواملی عوامی پارٹی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ تحصیل صدر کمیٹی کا اجلاس تحصیل سیکریٹری نعیم پیر علیزئی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین عبدالرؤف لالا، صوبائی سینئر نائب صدر و ضلع کوئٹہ کے سیکریٹری سید شراف آغا، صوبائی ایگزیکٹیو رکن منان خان بڑیچ، سردار حیات خان میرزئی، حضرت عمر ایڈووکیٹ، گل خلجی، اقبال خان بٹے زئی، حفیظ ترین، سندھ کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری آزاد خان خلجی سمیت ضلعی ایگزیکٹیوز و کمیٹی اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس میں تنظیمی و سیاسی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی اور آئندہ لائحہ عمل کے طور پر علاقائی یونٹس کے فوری انتخابات اور 2 دسمبر کو کوئٹہ میں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی 52ویں برسی کی تیاریوں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں تمام تحصیل ایگزیکٹیوز اور کمیٹیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اجلاسوں کے فوری انعقاد اور جلسہ عام کی کامیابی کے لیے بھرپور محنت کریں۔
پارٹی رہنماؤں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر آئینی اور غیر جمہوری طرز حکمرانی نے ملک کو شدید بحرانوں سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین سے انحراف اور اس کی پامالی کا نتیجہ آج ملک کے معاشی، سیاسی اور سماجی زوال کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ ملک کو درپیش مسائل سے نجات کی واحد راہ پشتونخوامیپ کے محبوب چیئرمین و تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے نکات پر عملدرآمد سے ممکن ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ فارم 47 کی بنیاد پر قائم حکومتیں اپنی نااہلی، ناکامی اور ناقص طرزِ حکمرانی سے عوامی اعتماد کھو چکی ہیں۔ ملک کے مفاد میں ضروری ہے کہ خارجہ و داخلہ پالیسیوں کا اختیار عوام کے منتخب پارلیمنٹ کے پاس ہو۔
انہوں نے کہا کہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے قیامِ پاکستان سے قبل اور بعد بھی ملک میں جمہوریت، آئین اور “ون مین ون ووٹ” کے اصول کے لیے طویل جدوجہد کی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کی قربانیوں کے نتیجے میں ملک کو 10 اپریل 1973 کو آئین ملا، تاہم وہ 2 دسمبر 1973 کو اپنے ہی گھر میں بم دھماکے میں شہید کر دیے گئے۔
رہنماؤں نے کہا کہ خان شہید کے نظریات و جدوجہد کا تسلسل آج محمود خان اچکزئی کی قیادت میں جاری ہے۔ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے مارشل لاء ادوار میں بھی پارٹی نے جمہوری تحریکوں میں صفِ اول کا کردار ادا کیا اور آج تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے پلیٹ فارم سے آئینی بالادستی کے لیے سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری ہے۔
انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ عوامی رابطہ مہم تیز کریں، گھر گھر جا کر پارٹی کا پیغام پہنچائیں، کیونکہ عوام غیرمنتخب حکمرانوں، فارم 47 کی حکومت اور ناقص طرزِ حکمرانی سے تنگ آ چکے ہیں۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں ازسرِنو خودمختار الیکشن کمیشن کے تحت شفاف، غیرجانبدارانہ انتخابات کرائے جائیں تاکہ حقیقی عوامی نمائندے پارلیمنٹ میں پہنچ سکیں۔
