ترقی کے لیے وسائل کا منصفانہ استعمال یقینی بنا رہے ہیں: وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی

سنجاوی ہسپتال کی 20 بستروں تک توسیع، بوائز و گرلز کالجز کے لیے نئی بسوں کا اعلان ضلع کا درجہ دینے کا معاملہ زیر غور؛ 14 غیر فعال اسکول موسم سرما کی تعطیلات کے بعد فعال ہوں گے


سنجاوی (ڈیلی قدرت کوئٹہ)*وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی تمام پالیسیوں میں وسائل کے موثر اور منصفانہ استعمال کو یقینی بنا رہی ہے، تاکہ صوبے کے دور دراز علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ترقیاتی فنڈز کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے نہ صرف مؤثر ہوں گے بلکہ دیرپا بھی ثابت ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اتوار کو سنجاوی میں صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد دمڑ کی دعوت پر عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سنجاوی جیسے خوبصورت مگر دور افتادہ علاقے کے عوام ہر طرح کی بنیادی سہولیات کے مستحق ہیں اور حکومت بلوچستان کی یہ اولین ترجیح ہے کہ یہاں کے لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جائے۔
*صحت اور تعلیم کے لیے بڑے اعلانات*

وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال سنجاوی کو توسیع دے کر 20 بستروں پر مشتمل مکمل فعال اسپتال میں تبدیل کیا جائے گا، اور اسے نجی شعبے کے اشتراک سے مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا۔ انہوں نے سنجاوی کے بوائز اور گرلز کالجز کے طلبا و
طالبات کے لیے دو نئی بسوں کی فراہمی اور ایڈمنسٹریشن کمپلیکس کی تعمیر کا بھی اعلان کیا۔
تعلیم کے فروغ پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سنجاوی اور زیارت کے علاقے میں 14 غیر فعال اسکولوں کو مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے اور یہ اسکول موسمِ سرما کی تعطیلات کے بعد کھلنے پر فعال حالت میں ہوں گے۔ اساتذہ کی کمی فوری طور پر پوری کی جا رہی ہے جبکہ اساتذہ کی بھرتی اور تعیناتی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے قائداعظم کیڈٹ کالج سنجاوی کے لیے بھی نئے بلاکس کی تعمیر اور چار نئی بسوں کی فراہمی کا اعلان کیا۔
*امن و امان اور ترقیاتی مسائل کا حل*

علاقے میں امن و امان کو مزید بہتر بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ نے چار نئے پولیس اسٹیشنز کے قیام کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت نے صوبے میں “بی ایریاز کو اے ایریاز” میں تبدیل کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بظاہر غیر مقبول ضرور ہے مگر وقت کی ضرورت اور امن و استحکام کی ضمانت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے عوام کے دیرینہ مطالبے پر سنجاوی کے لینڈ سیٹلمنٹ کے مسئلے کے جلد حل اور سنجاوی بائی پاس روڈ کی تعمیر کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مطالبے کے مطابق سنجاوی کو ضلع کا درجہ دینے کا معاملہ بھی زیرِ غور ہے، اور جب نئے ڈویژن اور اضلاع کے قیام کا فیصلہ کیا جائے گا تو سنجاوی کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا۔
اس موقع پر صوبائی وزراء، پارلیمانی سیکرٹریز، اعلیٰ سول حکام، قبائلی عمائدین، معتبرین اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

WhatsApp
Get Alert