“مہینوں کا کام سالوں میں تبدیل — کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبے عوام کے لیے سہولت کے بجائے زحمت بن گئے”

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبے عوام کے لیے سہولت کے بجائے زحمت بن گئے ہیں، خصوصاً مغربی بائی پاس اور سمنگلی روڈ پر برسوں سے جاری سست رفتار کام نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے فنڈز ریلیز ہونے کے باوجود متعلقہ افسران اور ٹھیکیداروں کی غفلت کے باعث نہ تو منصوبے مکمل ہو سکے اور نہ ہی ان میں کوئی نمایاں پیش رفت ہوئی، جس سے ٹریفک جام، گردوغبار اور حادثات معمول بن چکے ہیں۔ ٹھیکیداروں کا مؤقف ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے فنڈز فراہم نہیں کیے، جبکہ ادارے کے مطابق نہ صرف فنڈز دیے جا چکے ہیں بلکہ مزید تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ بدانتظامی اور عدم دلچسپی کا ہے۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس غفلت کا نوٹس لے کر غیر سنجیدہ ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کریں اور نئے ٹھیکیداروں کو مقررہ مدت میں منصوبے مکمل کرنے کا پابند بنائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
