بلوچستان میں ایک بار پھر ڈیجیٹل بلیک آؤٹ — 36 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ مکمل طور پر بند

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان میں ایک بار پھر وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے کے 36 اضلاع میں 3G اور 4G موبائل انٹرنیٹ سروسز 10 نومبر سے 16 نومبر 2025 تک مکمل طور پر معطل رہیں گی۔ حکام کے مطابق یہ اقدام قانون و نظم (Law & Order) کی صورتحال کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ ان اضلاع میں کوئٹہ، گوادر، چمن، خضدار، تربت، قلات، لسبیلہ، مستونگ، نصیرآباد، سبی، ژوب، ہرنائی، پنجگور، کیچ، کچھی، سوراب، کوہلو، دکی، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبداللہ، بارکھان، آواران، جعفرآباد، موسیٰ خیل، خاران، کچھی ، زیارت، دالبندین، نوشکی، اوستا محمد، واشک، بولان، جھل مگسی، حب اور دیرہ بگٹی شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز کی معطلی مخصوص کوارڈینیٹس (5 کلومیٹر کے دائرے کے علاوہ) میں نافذ ہوگی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ معطلی کا مقصد ممکنہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر صوبے میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔
بلوچستان میں انٹرنیٹ سروسز کی معطلی سے عوام، طلبہ، تاجر برادری اور صحافتی اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ شہری حلقوں نے اسے صوبے میں معلومات تک رسائی پر ایک اور قدغن قرار دیا ہے۔
