جے یو آئی نے ماضی میں بھی ہر مشکل وقت میں قوم کو اتحاد، صبر اور استقامت کا پیغام دیا ہے، اور آج بھی قومی استحکام کی ضامن قوت ہے،سینیٹر مولانا عبدالواسع


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)امیرِ جمعیت علماء اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ہمیشہ اصولوں، مشاورت اور قومی مفاد کو مقدم رکھ کر فیصلے کرتی ہے۔ یہی وہ جماعت ہے جو وقتی مفادات کے بجائے آئین، قانون اور عوامی اعتماد کی بنیاد پر اپنی سیاسی حکمتِ عملی طے کرتی ہے۔ جے یو آئی کا نصب العین ہمیشہ قومی وحدت، آئینی بالادستی، جمہوری استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے گرد گھومتا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن کی سیاسی بصیرت، دینی فہم اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نگاہ نے ہمیشہ نہ صرف جماعت بلکہ پوری قوم کو بروقت رہنمائی فراہم کی۔ ان کی قیادت میں جے یو آئی نے ہر بحران میں قوم کو درست سمت دکھائی چاہے وہ پارلیمانی بحران ہو، معاشی ابتری ہو، یا خارجہ محاذ پر قومی خودمختاری کا معاملہ۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے ماضی میں بھی ہر مشکل وقت میں قوم کو اتحاد، صبر اور استقامت کا پیغام دیا ہے، اور آج بھی قومی استحکام کی ضامن قوت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاست میں جے یو آئی کا کردار ہمیشہ ایک اعتدال پسند، اصولی اور قومی مفاہمت پر مبنی قوت کے طور پر رہا ہے۔ ہم نے کبھی کسی غیر آئینی قدم کی حمایت نہیں کی بلکہ ہمیشہ آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری اور عوامی رائے کے احترام کی بات کی ہے۔ یہی رویہ ہماری سیاسی قوت کی بنیاد ہے اور یہی طرزِ عمل ہمیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہیانہوں نے مزید کہا کہ آج جب ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، تو ایسے میں جے یو آئی کی قیادت کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قائدِ جمعیت کی رہنمائی ہی وہ قوت ہے جو اس ملک کو انتشار سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ اسلام آباد اور وانا حملے محض دہشت گردی کے واقعات نہیں بلکہ ایک منظم بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں، جن کے پیچھے ہندوستان کی براہِ راست منصوبہ بندی اور مالی معاونت شامل ہے۔ بھارت کا یہ منافقانہ اور جارحانہ کردار خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنا اور قومی اداروں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہندوستان عرصہ دراز سے پاکستان دشمن کارروائیوں میں ملوث ہے، چاہے وہ بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی پشت پناہی ہو یا تخریبی سرگرمیوں کی فنڈنگ۔ وانا اور اسلام آباد حملے اسی سلسلے کی کڑی ہیں، جن کے تانے بانے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘‘را’’ RAW سے ملتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں بھارتی مداخلت کے تمام شواہد عالمی سطح پر پیش کیے جائیں، اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کے فورمز پر بھارت کے دہشت گردانہ کردار کو بے نقاب کیا جائے، تاکہ دنیا دیکھے کہ کون خطے کے امن کو تباہ کرنے پر تْلا ہوا ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جے یو آئی ہر قسم کی دہشت گردی، فرقہ واریت اور بیرونی مداخلت کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ہم اپنے شہدائ￿ کے خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی قوم اور جمعیت علمائے اسلام کسی بھی بیرونی سازش کے آگے جھکنے والی نہیں۔ دشمن جتنا بھی گھناؤنا کھیل کھیلے، ہم ایک مضبوط، متحد اور باوقار قوم کی حیثیت سے اپنے وطن کا دفاع کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert