انڈوں کی قیمتوں نے نئی بلندی کو چھو لیا فارمی انڈوں کی قیمت نے ڈالر، یورو اور پاؤنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا سردی کی شدت کے ساتھ نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے
تازہ انڈے فی درجن 470 روپے، پنجاب کے انڈے 430 روپے فی درجن میں فروخت — شہری حیران و پریشان

زیارت کے دیسی انڈے 600 روپے فی درجن تک پہنچ گئے، فارمی انڈوں کی قیمت نے ڈالر، یورو اور پاؤنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
کوئٹہ (قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سردی کی شدت بڑھتے ہی انڈوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے شہر کے مختلف بازاروں اور مرغی منڈیوں میں فارمی انڈوں کے نرخ روز بروز بڑھ رہے ہیں، جس نے شہریوں کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق تازہ انڈوں کی مانگ میں اضافہ کے باعث دکانداروں نے قیمتوں میں من مانی اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی خاطر خواہ ایکشن سامنے نہیں آیا انڈوں کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کوئٹہ کے تازہ انڈے سب سے مہنگے ہوگئے ہےخبر رساں ادارے یو این اے کے مطابق تازہ ترین ریٹ کے مطابق کوئٹہ کے فارمی انڈے 470 روپے فی درجن میں فروخت ہو رہے ہیں جبکہ پنجاب سے آنے والے انڈے 430 روپے فی درجن میں دستیاب ہیں۔
اس حساب سے پنجاب کے ایک انڈے کی قیمت 35 روپے اور کوئٹہ کے تازہ انڈے کی قیمت 40 روپے فی عدد ہو چکی ہے تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ قیمتیں گزشتہ سال کی نسبت 60 سے 70 فیصد زیادہ ہیں پنجاب کے انڈوں کی ایک کاٹن (240 انڈے) اب 7600 روپے میں، جبکہ کوئٹہ کے انڈوں کی کاٹن 8500 روپے میں فروخت ہو رہی ہے — جو ملکی تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ قیمت تصور کی جا رہی ہے دیسی انڈے عوام کی پہنچ سے باہر — زیارت کے انڈے 600 روپے فی درجن فروخت جاری ہے۔
فارمی انڈوں کے ساتھ ساتھ دیسی انڈوں کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہےزیارت سے آنے والے دیسی انڈے کوئٹہ میں 600 روپے فی درجن تک فروخت ہو رہے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں فی عدد 50 روپے میں بھی دستیاب ہیں دکانداروں کا کہنا ہے کہ دیسی انڈوں کی سپلائی کم اور طلب بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں یہ اضافہ ہوا ہےماہرینِ معاشیات کے مطابق سرد موسم میں انڈوں کا استعمال قدرتی طور پر بڑھ جاتا ہے جس کے باعث طلب میں اضافہ اور سپلائی میں کمی کی وجہ سے مارکیٹ توازن بگڑ گیا ہے۔
ریٹیل مارکیٹ میں بعض دکانداروں نے تو قیمتوں کو ’’ڈالر‘‘ یورو اور یوکے پونڈ سے بھی آگے نکل گئے ہیں جس پر شہری طنزیہ انداز میں کہتے نظر آئے کہ کوئٹہ میں اب انڈہ خریدنا بھی ایک عیاشی بن گئی ہے، قیمت یورو اور پاؤنڈ سے بھی آگے جا پہنچی ہے اس وقت ایک امریکی ڈالر 281 جبکہ ایک یورو 332 اور ایک یوکے پاؤنڈ 381 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور اس وقت کوئٹہ میں فی درجن انڈو نے ایک مما لک کی کرنسی کو بھی پیچھے چھوڈ دیا ہے شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹ کنٹرول کمیٹیاں فعال کی جائیں اور قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر سال سردیوں میں انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ معمول بن چکا ہے، لیکن اس بار صورتحال انتہائی تشویشناک ہے دکانداروں کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں فیڈ کی قیمتوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹ کرایوں کی بلندی، اور بجلی کے زیادہ بل شامل ہیں۔
