تربت ماڈل سٹی پروجیکٹ: ناقص منصوبہ بندی اور فنڈز کی بندش سے اسکیمات عوام کے لیے دردسر بن گئیں


تربت(قدرت روزنامہ)تربت ماڈل سٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی جاری اسکیمات عوام کیلئے درد سر بن گئیں، کہیں کام بند، کئی ناقص منصوبہ بندی تو کئیں کام سست روئی کا شکار ہیں۔ اسی طرح گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول تربت کے گرانڈ پر زیر تعمیر اسٹیڈیم اور دوکانیں سالوں سے تاخیر کا شکار ہوکر کام بند ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ کام کے آغاز میں ٹھیکیدار کی مبینہ غفلت اور کام میں سستی کے باعث وقت پر کام مکمل نہ ہوسکا اب حکومت نے بدترین نااہلی کا مظاہرہ کرکے ٹھیکیدار اور انجینئرز کو تبدیل کرکے کارروائی اور کام تیز کرانے کے بجائے فنڈز ہی بند کردیئے ہیں۔ جس کے باعث شہر کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ شہریوں نے کمشنر مکران ، ڈپٹی کمشنر کیچ اور میئر تربت سے اپیل کی ہے کردار ادا کریں۔
اس سلسلے میں سنیما چوک کے پروجیکٹ کے متاثرہ دکانداروں نے کہاہے کہ سنیما چوک تربت کے مشرقی جانب، بوائز ماڈل ہائی اسکول کے قریب سٹی پروجیکٹ کے تحت تعمیر ہونے والی دکانوں کی تکمیل فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔
دوکانداروں نے بتایا کہ منصوبے کی تعمیر اختتامی مراحل میں ہے مگر صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز نہ ملنے اور ٹھیکیدار کی غفلت کے باعث کام کئی ماہ سے رکا ہوا ہے۔ ان کے مطابق تاخیر کے باعث پرانی خستہ حال دکانوں میں چوری اور نقب زنی کے واقعات بڑھ گئے ہیں، جن سے دوکانداروں کو لاکھوں روپے کا مالی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہاہے کہ گزشتہ روز ایک میڈیکل اسٹور کو لوٹنے کے بعد آگ لگادی گئی تھی جس سے املاک بھی جل گئیں دوکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ نئی دکانوں میں منتقل ہونے کی امید پر پرانی عمارتوں کی مرمت نہیں کر پا رہے، کیونکہ وہ بوسیدہ اور کمزور ہوچکی ہیں۔
دوکانداروں نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وزیر خزانہ شعیب احمد نوشیروانی، وزیر پلاننگ و ڈویلپمنٹ میر ظہور احمد بلیدی اور کمشنر مکران و پی ڈی اور ڈپٹی کمشنر کیچ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نوٹس لیکر زمہ داروں کیخلاف کاروائی کرکے کمزوریوں کو دور کرکے منصوبے کیلئے فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ وہ محفوظ اور پائیدار دکانوں میں منتقل ہوسکیں۔

WhatsApp
Get Alert