عدلیہ پر قابو پانے کے لیے غیر شفاف عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں، وفاقی آئینی عدالت نہیں بلکہ آئین شکن عدالتیں بن جاتی ہیں، ثنا بلوچ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر ثنا بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ چارٹر آف ڈیموکریسی سے بہت قبل، 2004 میں انہوں نے سینٹ آف پاکستان میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر مفصل بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کا تنازعہ پیچیدہ شکل اختیار کر رہا تھا اور سپریم کورٹ میں مزید ججوں کی تعیناتیاں ہو رہی تھیں۔ثنا بلوچ نے مزید بتایا کہ بعد ازاں 2006 میں ان کی ایک تحریر “Need for A Federal Constitutional Court” دی نیشن میں شائع ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نیت وفاق کے مابین مسائل کے منصفانہ حل اور عدلیہ کو بیرونی دبا سے تحفظ دینے کی ہو تو وفاقی عدالتوں کا قیام ضروری ہے، لیکن اگر مقصد عدلیہ پر قابو پانا اور من پسند فیصلے کروانا ہو تو ایسی عدالتیں آئین شکن عدالتیں بن جاتی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert