بلوچستان میں گیس لائین تباہ ‘ کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں پریشر کم یا گیس مکمل بند

عوام کا گیس پائپ لائین واقعات پر مکمل غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ


جب گیس پریشر کی کمی اور لوڈشیڈنگ کیخلاف عوام آواز بلند کررہی تھی عین انہی دنوں میں گیس پائپ کون اڑاتا ہے ؟
بلوچستان سے دوسرے صوبوں کو جانے والے پائپ محفوظ صرف کوئٹہ یا بلوچستان کے لائین کیوں نشانہ بنتے ہیں ؟
کیا ہر بار “گیس لائن اُڑا دی گئی” محض بہانہ ہے؟ غیر جانبدار تحقیقات کب ہوں گی؟
کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان کے علاقے مچھ میں آج 18-انچ قطر کی مرکزی گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ ہوگئی، جس کے باعث پشین، مستونگ اور یارو میں گیس سپلائی معطل ہو گئی جبکہ کوئٹہ میں فراہمی تاحال جاری ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کے مطابق پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور سکیورٹی کلیئرنس کے بعد مرمت کی ٹیمیں روانہ کی جائیں گی۔ بلوچستان میں گیس لائن کو نشانہ بنانے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں، مختلف سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں کے مطابق 2005 سے 2018 تک کم از کم 232 حملے گیس پائپ لائنوں پر ہو چکے ہیں، جبکہ پچھلے چند برسوں میں بھی درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے جن میں کوئٹہ کو گیس پہنچانے والی مرکزی لائن متعدد مرتبہ متاثر ہوئی۔ ایسے میں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی کوئٹہ آنے والی لائن کو بار بار کون اڑا رہا ہے؟ جب کوئٹہ کے عوام گیس پریشر میں کمی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج میں تھے، عین انہی دنوں میں لائن کا پھر اڑ جانا کیا محض اتفاق ہے یا انتظامیہ کی کمزوری؟ کیا سوئی گیس کی جانب سے ہر سردی میں “لائن اڑ گئی” کا اعلان شہریوں کو گیس نہ دینے کا بہانہ تو نہیں؟ کیا ان حملوں کی غیر جانبدار، اعلیٰ سطح پر مکمل تحقیقات نہیں ہونی چاہئیں تاکہ اصل محرکات سامنے آئیں؟ اور اگر واقعی لائن تباہ ہوتی ہے تو پھر شہری علاقوں میں گیس پریشر کم اور وی وی آئی پی و مخصوص علاقوں میں بلا تعطل سپلائی کیسے جاری رہتی ہے؟ یہ سوالات ایک بار پھر صوبے میں گیس انتظامیہ، سیکیورٹی اداروں اور حکومتی دعوؤں پر سنجیدہ شکوک پیدا کر رہے ہیں۔
2005–2010 (ابتدائی شدت کا دور)
اس عرصے میں 50 سے زائد دھماکے گیس پائپ لائنوں پر رپورٹ ہوئے۔
زیادہ واقعات ڈیرہ بگٹی، سبی، بولان، مچھ، نصیرآباد میں ہوئے۔
اکثر حملے 16–18 انچ قطر کی ان لائنوں پر کیے جاتے تھے جو کوئٹہ، سبی اور بلوچستان کے مغربی حصوں کو گیس فراہم کرتی ہیں۔
2011–2015 (شدت میں اضافہ اور کوئٹہ لائن بارہا نشانہ)
تقریباً 80 حملے ریکارڈ ہوئے جن میں متعدد بار کوئٹہ کو گیس دینے والی مین لائن متاثر ہوئی۔
2013 – مچھ کے قریب بڑا حملہ: کوئٹہ کو جانے والی 18-انچ لائن تباہ، گیس کئی اضلاع میں معطل۔
2014 – ڈبل بلاسٹ: دو پائپ لائنیں اڑائی گئیں، جن میں ایک براہِ راست کوئٹہ جانے والی تھی۔
اس دوران گیس کمپنی نے بڑے پیمانے پر مرمت اور سکیورٹی میں اضافہ کیا، مگر حملے جاری رہے۔
2016–2020 (درمیانی کمی مگر واقعات برقرار)
اس عرصے میں بھی درجنوں حملے ہوئے — اندازاً 40–45۔
2017: ڈیرہ بگٹی میں 18-انچ لائن تباہ، کوئٹہ، پشین اور مستونگ میں گیس پریشر شدید متاثر۔
2019: مچھ میں ایک بار پھر لائن کو بارودی مواد سے اُڑایا گیا۔
2021–2024 (شدت دوبارہ بڑھ گئی — کوئٹہ لائن مسلسل نشانہ)
اس عرصے میں 20+ حملے رپورٹ ہوئے۔
2022: سبی اور مچھ کے درمیان مرکزی گیس پائپ لائن پر دو بڑے حملے۔
2023: پشین اور بولان کے درمیان لائن تباہ، کوئٹہ میں 24 گھنٹے گیس پریشر ڈاؤن۔
دسمبر 2024: کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر 18-انچ لائن ایک بڑا دھماکے سے تباہ — شہر کے متعدد علاقوں میں گیس مکمل بند۔
2025 (تازہ ترین سال — آپ کے آج کے واقعے سمیت)
جون 2025: ڈیرہ مراد جمالی میں لائن میں بارود لگایا گیا، مگر مرکزی کوئٹہ لائن محفوظ رہی۔
اگست 2025: سبی کے قریب لائن پر دھماکہ، کوئٹہ میں پریشر کم۔
آج کا واقعہ – نومبر 2025:
مچھ میں 18-انچ قطر کی لائن تباہ، پشین، مستونگ اور یارو میں گیس معطل، جبکہ عوام اسی دوران گیس کی کمی اور احتجاج میں مصروف تھے — عین اسی وقت لائن اڑائے جانے پر بڑے سوال اُٹھ گئے۔
2005 سے اب تک: تقریباً 200 سے زائد حملے
کوئٹہ کو گیس دینے والی مرکزی لائن: کم از کم 20 بار نشانہ
سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع:
ڈیرہ بگٹی، سبی، مچھ (بولان)، نصیرآباد، پشین۔

WhatsApp
Get Alert