“بلوچستان ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کا طویل سلسلہ: کوئٹہ سمیت 36 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ ہنوز بند، طلبا خوار ‘ کاربار بند ‘ ہزاروں نوجوان بے روزگار

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش کا سلسلہ طویل ہو گیا ہے، اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت 36 اضلاع میں مخصوص 5 کلومیٹر کے دائروں کو چھوڑ کر باقی تمام علاقوں میں ڈیجیٹل بلیک آؤٹ ہنوز جاری ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت نے پہلے اس بندش کو 16 اکتوبر تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اسے ایک بار پھر بڑھا دیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی حکومت کے قیام سے لے کر اب تک صرف کوئٹہ شہر میں مجموعی طور پر 60 روز سے زائد موبائل انٹرنیٹ سروس بند رہ چکی ہے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی پہلے روز سے یہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ ہی دہشتگردی کی وجہ ہے، اسی لیے ان کی حکومت آنے کے بعد کسی بھی چھوٹے مظاہرے، احتجاج یا سیکورٹی تھریٹ کی صورت میں سب سے پہلا اقدام انٹرنیٹ کی بندش ہوتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی دراصل عوام کو بنیادی ڈیجیٹل حقوق سے محروم کرنے اور حکومتی ناکامیوں پر ہونے والے عوامی ردعمل کو دبانے کے مترادف ہے۔
انٹرنیٹ کی طویل بندش کے صوبے کی سماجی اور معاشی زندگی پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ طویل بندش کے باعث طلباء کا تعلیمی سلسلہ رک گیا ہے، خاص طور پر آن لائن کلاسز اور ریسرچ کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ہزاروں نوجوان اور شہری جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ای کامرس اور آن لائن سروسز پر انحصار کرتے تھے، وہ انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کی وجہ سے بے روزگار ہو گئے ہیں۔ یہ صورتحال پہلے سے کمزور معیشت والے صوبے میں مزید معاشی بدحالی کا باعث بن رہی ہے۔
شہری حلقوں اور سیاسی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امن و امان کے مسئلے کو ٹیکنالوجی پر پابندیوں سے حل کرنے کے بجائے پیشہ ورانہ اور جدید حکمت عملی اپنائی جائے، اور عوام کو ان کے بنیادی ڈیجیٹل حقوق سے محروم کرنے کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔
