لاہور ہائیکورٹ کا بھارتی نو مسلم خاتون کو پولیس ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کا حکم


لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور ہائیکورٹ نے پاکستانی شہری سے شادی کرنے والی بھارتی نو مسلم خاتون کو پولیس ہراسانی سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ درخواست گزار میاں بیوی کو غیر ضروری طور پر تنگ نہ کیا جائے۔
جسٹس فاروق حیدر نے یہ حکم اس درخواست پر دیا جس میں خاتون—جو پہلے سکھ مذہب سے تعلق رکھتی تھیں اور مذہبی مقاصد کے لیے پاکستان آئیں—نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد پاکستانی شہری سے شادی کی مگر پولیس نے فاروق آباد، ضلع شیخوپورہ میں ان کے گھر پر 8 اور 11 نومبر کو غیر قانونی چھاپے مار کر انہیں شادی ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
درخواست میں آئی جی پنجاب، آر پی او شیخوپورہ، دونوں اضلاع کے ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز سمیت ایک شہری کو فریق بنایا گیا تھا، جس پر الزام تھا کہ اس نے خاتون کے سابق مذہب کی بنیاد پر پولیس کو کارروائی کے لیے اکسانے کی کوشش کی
۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 35 خاندان کے تحفظ اور آرٹیکل 9 ہر فرد کے شخصی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جب کہ پولیس کا طرزِ عمل بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں بتایا گیا کہ شوہر پاکستانی شہری ہے اور اہلیہ نے بھی ویزا توسیع و شہریت کے حصول کے لیے پاکستانی سفارت خانے سے رجوع کیا ہے۔ عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نہ صرف ہراسانی سے باز رہے بلکہ درخواست گزاروں کی ازدواجی زندگی میں کسی قسم کی مداخلت بھی نہ کرے، جبکہ مزید مناسب ریلیف عدالت آئندہ کارروائی میں فراہم کرے گی۔

WhatsApp
Get Alert