24000 روپے کا اضافہ ، انکم ٹیکس ریٹرن فائل کروانے والے افراد ہوشیار ہوجائیں !‌


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)حکومت نے تاخیر سے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والے افراد کے لیے فیس 1,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے کرنے کی تجویز دے دی۔
وفاقی حکومت نے فنانس بل 2026 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں دوبارہ شامل ہونے کی فیس میں نمایاں اضافے کی تجویز دے دی۔
مجوزہ ترامیم کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 182A میں تبدیلی کے تحت مقررہ وقت کے بعد ٹیکس ریٹرن جمع کرا کے ATL میں بحالی کے لیے انفرادی ٹیکس دہندگان کی فیس ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے، جو 2400 فیصد اضافہ بنتا ہے۔
فنانس بل کے مطابق ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے یہ فیس 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے جبکہ کمپنیوں کے لیے 20 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ATL میں وہ ٹیکس دہندگان شامل ہوتے ہیں جو مقررہ مدت کے اندر اپنی انکم ٹیکس ریٹرن جمع کراتے ہیں، مقررہ وقت پر ریٹرن جمع نہ کرانے والے افراد فہرست سے خارج ہو جاتے ہیں اور انہیں بینکنگ لین دین، جائیداد کی خریداری، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور بیرونِ ملک سفر سمیت مختلف معاملات میں زیادہ ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ کم فیس تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے کی حوصلہ شکنی نہیں کر سکی، اسی لیے بروقت ٹیکس ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے فیس میں نمایاں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ سے منظوری کی صورت میں نئی ATL بحالی فیس یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگی، جس کے بعد تاخیر سے ٹیکس ریٹرن جمع کرانا افراد اور کاروباری اداروں کے لیے کہیں زیادہ مہنگا ہو جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert