نال کی 90% بچیاں میٹرک کے بعد تعلیم سے محروم، ہائیر سیکنڈری اسکولوں کی فوری ضرورت
قبائلی علاقے کی بچیوں کے مستقبل کا سوال، ہائیر سیکنڈری اسکول کے درجے کی مانگ زور پکڑتی

خضدار(قدرت روزنامہ)ضلع خضدار کی تحصیل نال میں 90% بچیاں ہائیر سیکنڈری اسکول نہ ہونے کی وجہ سے میٹرک کے بعد تعلیم جاری نہیں رکھ پا رہیں۔ نال گرلز ہائی اسکول، ہزارگنجی ہائی اسکول اور درنیلی ہائی اسکول کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ نہ دیے جانے کے باعث ہزاروں لڑکیوں کا مستقبل تاریک ہوتا جا رہا ہے۔قبائلی علاقہ ہونے کی وجہ سے اکثر بچیاں بوائز کالج میں تعلیم جاری نہیں رکھ سکتیں، جبکہ خضدار شہر نال سے 45 سے 50 کلومیٹر دور ہونے کی وجہ سے وہاں تک سفر کرنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں۔ نتیجتا میٹرک کے بعد ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر لڑکیوں کو ان کے اپنے علاقوں میں ہی ہائیر سیکنڈری تعلیم کی سہولت میسر آ جائے تو وہ اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں گی۔ اہلیان نال نے وزیراعلی بلوچستان، کمشنر قلات ڈویژن، ڈپٹی کمشنر خضدار، ایم پی اے میر یونس عزیز زہری اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خضدار سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ نال کی بچیوں کے مستقبل کو تاریکی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ نال کے تینوں گرلز ہائی اسکولوں کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ دیا جائے، تاکہ علاقے کی بچیاں اپنے گاں میں رہتے ہوئے ہی اعلی تعلیم حاصل کر سکیں اور اپنے خاندان اور معاشرے کا روشن مستقبل بن سکیں۔نوٹ: یہ خبر تحصیل نال میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے عوامی مطالبے اور موجودہ صورتحal کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اس میں مزید تفصیل یا مقامی افراد کے حوالے شامل کیے جا سکتے ہیں۔
