بلوچستان بند، ادارے مفلوج، امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک
'کہاں ہے وہ ایس ایچ او جس کی یہ دہشت گرد مار تھے؟' مولانا ہدایت الرحمن کا بلوچستان اسمبلی میں خطاب

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی خراب امن و امان کی صورتحال، انٹرنیٹ و ٹرانسپورٹ کی بندش، بجلی و گیس کی عدم فراہمی اور سڑکوں کی کھدائی کے باعث پیدا ہونے والے بحران پر شدید بحث ہوئی۔ رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے موجودہ حالات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں انٹرنیٹ، ٹرانسپورٹ اور شاہراہیں مسلسل بند ہیں جبکہ اب کیسکو اور این ایچ اے کو بھی کام روکنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے سخت سوال اٹھایا: “کہاں ہے وہ ایس ایچ او جس کی یہ دہشت گرد مار تھے؟”
دریں اثنا سریاب میں بجلی اور گیس کی مسلسل عدم دستیابی پر رکن اسمبلی آغا عمر احمد زئی ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ اجلاس میں شہر کی سڑکوں کی کھدائی اور ٹریفک جام کے معاملے کو بھی زیر بحث لایا گیا، جس پر اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے کمشنر کوئٹہ کو جمعرات کے روز چیمبر میں طلب کرلیا۔
حکومتی رکن علی مدد جتک نے اعتراف کیا کہ کوئٹہ اور سریاب دونوں جگہ گیس نایاب ہے، عوام شدید پریشان ہیں۔ رکن اسمبلی علی فرح عظیم نے 27ویں آئینی ترمیم کو اداروں کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے فوجی قیادت کی تعریف کی اور کہا کہ جنرل عاصم منیر نے ملک کو عالمی تنہائی سے نکالا۔
جے یو آئی کے رکن اصغر ترین نے مطالبہ کیا کہ گیس کی عدم فراہمی محض سہولت نہیں بلکہ عوام کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، لہٰذا وزیر اعلیٰ اس معاملے پر وفاق سے فوری بات کریں۔ انہوں نے مولانا ہدایت الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی بنچوں پر بیٹھ کر حکومت کے خلاف تقریریں نہ کریں، اگر بات کرنی ہے تو اپوزیشن کی نشست پر آئیں۔
اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رولنگ دی کہ امن و امان سے متعلق کل جمعرات کے روز اراکین کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی۔ بعد ازاں کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس جمعرات سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
