10 سال بعد پاک ایران سرحدی تجارت کا بڑا دروازہ کھلنے کو تیار
سوراب مند بارڈر دسمبر کے پہلے ہفتے دوبارہ فعال، خطے میں معاشی بحالی کی نئی امید

بارڈر کی بندش نے کاروبار تباہ کیے، کھلنے سے روزگار اور تجارت بحال ہوگی، حاجی کریم بخش
کیچ(قدرت روزنامہ)پاک ایران سرحد پر واقع اہم تجارتی پوائنٹ سوراب مند تقریبا 10 سال کی طویل بندش کے بعد دوبارہ کھلنے جا رہا ہے، جس سے خطے میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور دو طرفہ تجارت کو نئی زندگی ملنے کی امید کی جا رہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کیچ میجر (ر) بشیر احمد بڑیچ کی قیادت میں پاکستانی وفد نے حالیہ دنوں ایرانی حکام سے ملاقات کی، جس میں دسمبر کے پہلے ہفتے میں بارڈر کو دوبارہ فعال کرنے پر اصولی اتفاق کیا گیا۔ اس مقصد کیلئے یکم دسمبر کو پلر نمبر 214 کا مشترکہ معائنہ بھی طے پایا ہے۔سوراب مند بارڈر بلوچستان کے ضلع کیچ اور ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے سنگم پر واقع ہے، جبکہ مند کی 50 ہزار آبادی کا بڑا حصہ سرحدی تجارت سے جڑا ہوا ہے۔ بارڈر کی ایک دہائی طویل بندش کے باعث مقامی کاروبار بری طرح متاثر ہوئے، روزگار ختم ہوا اور بے شمار تاجر دیگر شہروں یا بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر کیچ نے مقامی تاجروں سے مسلسل رابطہ رکھ کر انہیں یقین دلایا کہ منظور شدہ بارڈر گیٹس جلد فعال کیے جائیں گے، جبکہ مقامی سطح پر اس پیشرفت کو معاشی بحالی کیلئے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔مقامی انجمن تاجران کے سابق صدر حاجی کریم بخش نے بارڈر کی طویل بندش کو علاقائی معیشت کیلئے تباہ کن قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایرانی تیل کی ترسیل رک گئی، کئی کاروباری یونٹس بند ہوگئے اور درجنوں تاجر معاشی دبا میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ان کے مطابق ماضی میں اس پوائنٹ کے ذریعے مشترکہ مارکیٹس بنانے کا منصوبہ بھی بنا تھا لیکن بارڈر بند ہونے سے تمام اقدامات بے نتیجہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ اس گیٹ سے پاکستان ایران کو چاول، تمباکو اور دیگر اشیا برآمد کرتا تھا جبکہ ایران سے تیل، آٹا، سیمنٹ، لوہا اور تعمیراتی سامان درآمد ہوتا تھا۔ بارڈر کے دوبارہ کھلنے سے دونوں اطراف میں تجارت، اشیائے خورونوش کی ترسیل اور معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی اور عوام کو براہ راست فائدہ ملے گا۔
تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ سرحدی تجارت سے متعلق اہم فیصلوں میں مقامی تاجروں کو باضابطہ شامل نہیں کیا جاتا، جس سے بارڈر کھلنے کے باوجود انتظامی مسائل برقرار رہتے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ سوراب مند بارڈر کی بحالی نہ صرف مقامی معیشت بلکہ پاکستان ایران دو طرفہ تجارت کے لیے بھی اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں سے تجارتی تعلقات کمزور رہے ہیں، ایسے میں سرحدی کراسنگ پوائنٹس کا فعال ہونا باہمی اعتماد میں اضافہ کرے گا۔علاقائی سطح پر یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ بلوچستان کے سرحدی اضلاع کی بڑی آبادی کا روزگار انہی تجارتی پوائنٹس سے جڑا ہے۔
بارڈر کھلنے سے نہ صرف اشیائے ضروریہ کی باقاعدہ ترسیل بہتر ہوگی بلکہ غیر رسمی تجارت میں کمی اور قانونی تجارت میں اضافہ متوقع ہے، جس سے حکومتی آمدنی بھی بڑھے گی۔ایران کی جانب سے رضامندی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک سرحدی تعاون کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ 10 سال سب بندش کے بعد سوراب مند بارڈر کی بحالی کیچ، مند اور پورے خطے کے لیے خوشخبری ہے اور اسے علاقے میں معاشی استحکام کے نئے باب کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
write English news With headline
