پی ٹی آئی سیکرٹریٹ پر پولیس چھاپہ آئین پر حملہ اور جمہوریت کا قتل، کٹھ پتلی حکومت عمران خان کے نام سے خوفزدہ ہے، قاسم خان سوری

کوئٹہ(ڈیلی قدرت)پاکستان تحریک انصاف کے سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے بلوچستان میں پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹریٹ پر پولیس چھاپے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آئین پر حملہ، جمہوریت کا قتل اور سیاسی حقوق چھیننے کی مجرمانہ کارروائی قرار دیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں قاسم سوری نے کہا کہ سیاہ چھتری کے نیچے مسلط کی گئی کٹ پتلی حکومت نے بلوچستان میں پی ٹی آئی سیکرٹریٹ پر چھاپہ مار کر اپنی بزدلی اور غیرقانونی طرزِ حکمرانی سب کے سامنے رکھ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چھاپہ نہیں بلکہ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے اور مخالفین کو دبانے کا ہتھکنڈہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے پہلے سیاسی جماعتوں کو مہم چلانے، عوام تک منشور پہنچانے اور دفاتر میں مشاورت کرنے کا آئینی و جمہوری حق حاصل ہے مگر صوبے میں سینسرشپ، خوف اور جبر کی فضا قائم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ جلسے، پریس کانفرنس اور عوامی رابطہ مہم تک کی اجازت نہیں دی جا رہی، حتی کہ کارکنان کو اپنے دفتر میں بیٹھنے تک سے روک دیا گیا ہے۔قاسم سوری نے کہا کہ حکومت اس قدر خوفزدہ ہے کہ خواتین کارکنان کے خلاف بھی پولیس دستے بھیجے جا رہے ہیں، جبکہ وہ لوگ الیکشن اور عوام کا سامنا کرنے سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ برسراقتدار حلقے عمران خان کے نام سے بھی گھبراتے ہیں اور اسی وجہ سے ہر سطح پر سیاسی دبا بڑھایا جا رہا ہے۔
