پشتون بلوچ خطے میں امن کیلئے سیاسی یکجہتی ناگزیر، افغانوں کی بے دخلی اور سندھ میں آپریشن کا ردعمل آئے گا، اصغر اچکزئی کی پریس کانفرنس

کوئٹہ(ڈیلی قدرت)عوامی نیشنل پارٹی نے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں بدامنی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشتون بلوچ خطے میں امن کی بحالی کیلئے سیاسی قوتوں کی یکجہتی ناگزیر ہے جس کیلئے خارجہ پالیسی پر نظرثانی اور عوام کو انکے وسائل پر حق دینا ہوگا اس حوالے تمام سیاسی و قوم پرست جماعتوں سے رابطہ کرکے ایک ایسا لائحہ عمل اختیار کرینگے جس سے مسائل میں کمی اور عوام سکون کے ساتھ زندگی گزارسکے‘کوئٹہ پریس کلب میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر اصغر اچکزئی نے مرکزی سیکٹری جنرل ڈاکٹر محمد سلیم خان کے ہمراہ پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کے گذشتہ روز کے اجلاس میں ملکی حالات زیر بحث آئے بلوچستان اور خیبر پشتون خواہ کے حالات قابل تشویش ہیں عومی نیشنل پارٹی دھرتی کے باسیوں کو یکجہتی کا فریضہ سرانجام دے گی خطے میں جاری بدامنی کے خلاف تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لیکر مشترکہ لائحہ عمل طے کرینگے محسن نقوی جسیے لوگ بھڑکتی آگ پر تیل ڈال رہے ہیں پشتون دھرتی پر جوان ہونے والوں افغانوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی پالیسی درست نہیں گھروں پر چھاپے اور افغانی ہونے کی آڑ میں سندھ میں پشتوں کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے برے سلوک کا خطرناک ردعمل آئے گا اس وقت خواتین بے گناہ خواتین اور سیاسی کارکن جیل میں ہے اور ان پر کوئی گناہ بھی ثابت نہی ہوسکابلوچ پشتون خطے میں صبع بم دھماکوں اور فائرنگ سے ہوتی یے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کے لوگ بنیادی سہولیات اور امن کی عدم بحالی کا رونا رو رہے ہیں جبکہ لاہور اور ملک کے دیگر علاقوں میں حالات اسکے برعکس ہیں کیا بلوچستان مقبوضہ علاقہ ہے اگر ایسا نہیں حکومتی رٹ یہاں کیوں نہی لاہور اور دیگر علاقوں جیسا امن اور سہولیات یہاں کے لوگوں کا حق ہے جو ان کو نہیں مل رہا بلوچستان کے درالحکومت کوئٹہ جو سیف سیٹی کہلاتا ہے لیکن گیس بجلی پانی دستیاب نہیں سف سٹی کی کیا حالت یے سب کے سامنے ہے یہاں ریڈزون کے آس پاس خندقیں کھود دی گئی ہے بدامنی کے حالات حساس علاقے زرغون روڈ پر پہنچ چکے ہیں ہندوستان کے ساتھ سرحری تجارت بند نہیں ہوئی لیکن افغان باڈر بند ہے برترین صورتحال کے بعد بھی ایران اور انڈیا کے ساتھ سرحدی تجارت شروع کردی جاتی ہے لیکن افغانستان کے ساتھ الگ سلوک ہے افغانستان کے ہر حکمران کو بد بدقسمتی سے بھارت کے ساتھ جوڑا گیا ناقص پالیسوں کی وجہ سے کسی سے تعلقات بہتر نہیں رہے حکمرانوں نے ملکی معاملات میں کھبی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیاپشتون خطے کو مسلح جتھوں کے حوالے کردیا گیا ہے ہرنائی میں کول مائیز مالکان کو مسلح گارڈ رکھنے کو کہا گیا تو پھر سیکورٹی اہلکار کس لٰئے ہیں عوامی نیشنل پارٹی بحالی امن کیلئے ملک کی حقیقی سیاسی قوتوں کے ساتھ بات چیت کے عمل کا آغاز کرے گی۔
