نام نہاد قوم پرست حقائق مسخ کر کے نوجوانوں کو ریاست کیخلاف اکسا رہے ہیں، میر ظہور بلیدی

خان آف قلات نے قانونی اور آئینی طریقہ کار کے تحت پاکستان سے الحاق کیا، صوبائی وزیر پلاننگ


کوئٹہ( ڈیلی قدرت )پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ میر ظہور بلیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ قلات پرنسلی اسٹیٹ میں اس وقت کوئی منظم ریاستی ڈھانچہ موجود نہیں تھا جسے آج کے معنوں میں ایوان زیریں یا ایوان بالا قرار دیا جا سکے۔ البتہ تاریخی طور پر خان آف قلات کے زیر اثر قبائلی سرداروں کا جرگہ موجود تھا، جس نے خان کو اختیار دیا کہ وہ قلات کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں۔میر ظہور بلیدی نے بتایا کہ خان آف قلات میر احمد یار خان نے اپنی آٹو بائیوگرافی میں واضح طور پر درج کیا ہے کہ انہوں نے قانونی اور آئینی طریقہ کار کے تحت قلات کو پاکستان میں شامل کیا۔ علاوہ ازیں، مکران، خاران اور لسبیلہ کے نوابوں نے بھی رضاکارانہ طور پر کراچی جا کر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سے ملاقات کی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔صوبائی وزیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نام نہاد قوم پرست رہنما ان مستند تاریخی حقائق کو مسخ کر کے نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وہ خود پاکستان کی پارلیمان اور اسمبلیوں میں بیٹھ کر انقلابی تقاریر کرتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد اور ریاست مخالف راستوں کی طرف راغب کرتے ہیں تاکہ مردہ باد اور زندہ باد قوم پرستی کی سیاست زندہ رہے۔میر ظہور بلیدی نے زور دیا کہ نوجوانوں کو مستند تاریخی حقائق سے آگاہ کیا جائے اور انہیں تشدد اور غیر آئینی اقدامات کی بجائے تعلیم، امن اور ترقی کے راستے پر رہنمائی فراہم کی جائے۔

WhatsApp
Get Alert