کتاب ہر ہاتھ میں کا عزم، حکومتِ بلوچستان کا تاریخی اقدام، صوبے میں پہلی بار کتاب گاڑی منصوبے کا آغاز


وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید درانی کے تعلیم دوست وژن کے تحت صوبے میں تعلیم کے فروغ اور بچوں تک علم کی براہِ راست رسائی یقینی بنانے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے۔

بلوچستان میں پہلی بار کتاب گاڑی منصوبے کا آغاز کردیا گیا ہے۔ منصوبے کا باضابطہ افتتاح صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید درانی نے یونیسف اور گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کے اشتراک سے گورنمنٹ گرلز لیڈی سنڈیمن ہائی اسکول میں کیا۔

اس منفرد منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں 13 اضلاع میں کتاب گاڑیاں فراہم کی جارہی ہیں۔ ہر کتاب گاڑی میں پاکستان کے سر فہرست 10 پبلشرز کی جانب سے مہیا کردہ ہزار سے زائد کہانیوں اور معلوماتی کتب موجود ہوں گی۔

گاڑیوں میں کہانیوں، نصابی و غیر نصابی کتب، سرگرمیوں کے مواد، سیکھنے کے آلات اور ریڈنگ پروگرام شامل کیے گئے ہیں تاکہ بچوں کو جامع تعلیمی سہولت ایک ہی جگہ میسر آسکے۔

کتاب گاڑیوں کے ساتھ نوجوان تربیتی عمل بھی موجود ہوگا جو گاؤں گاؤں، محلہ محلہ جا کر بچوں میں پڑھنے کا شوق بیدار کرنے، کتاب کے استعمال کی تربیت دینے اور ریڈنگ سیشنز کروانے کی ذمہ داری نبھائیں گے۔

یہ گاڑیاں موسمی تعطیلات سمیت سال بھر مختلف علاقوں کا دورہ کریں گی تاکہ دور دراز کے بچے بھی سیکھنے کے اس عمل سے محروم نہ رہیں۔

کتاب گاڑی دراصل ایک موبائل لائبریری اور چھوٹی کلاس روم کا امتزاج ہے جو خصوصاً پہاڑی، صحرائی اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے ان بچوں کے لیے علم تک رسائی آسان بنائے گی جو اسکول یا لائبریری جیسی سہولتوں سے محروم ہیں۔ تربیت یافتہ پرائمری استاد ان گاڑیوں کو خود چلائیں گے اور موقع پر بچوں کو پڑھانے، رہنمائی کرنے اور سرگرمیوں میں شامل کرنے کا عمل بھی انجام دیں گے۔

مزید برآں، حکومت بلوچستان نے تعلیم کے فروغ کے لیے 15 اضلاع کے پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں میں 90 نئی لائبریریاں قائم کی ہیں جن میں 45 لڑکیوں اور 45 لڑکوں کے اسکول شامل ہیں۔
ان لائبریریوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں تک کتابوں کی رسائی بڑھانا اور تعلیمی ماحول بہتر بنانا ہے۔

حکومتِ بلوچستان کو یقین ہے کہ کتاب گاڑی منصوبہ نہ صرف بچوں میں مطالعے کی عادت کو فروغ دے گا بلکہ تعلیمی معیار بلند کرنے، سہولتوں میں عدم مساوات کم کرنے اور سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی لانے کا ذریعہ بنے گا۔

WhatsApp
Get Alert