کوئٹہ: جناح ٹائون تھانہ سی پیک روڈ پر پولیس مقابلہ، لاشاری گروپ کے 3 کار لفٹرز ہلاک، ملزمان گاڑیوں کی خرید و فروخت کیلئے کرپٹو کرنسی استعمال کرتے تھے : پولیس


کوئٹہ ( ڈیلی قدرت )کوئٹہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں سے گاڑیاں چھیننے والے گروہ کے 3 ارکان کوئٹہ میں ایک پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ایس ایچ او پو لیس تھا نہ جناح ٹائون ظہور احمد کے مطابق سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے اہلکاروں اور ملزمان کے درمیان جناح ٹائون تھانے کی حدود میں سی پیک روڈ پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت ساجد حسین، محمد پناہ اور شہزاد علی کے نام سے ہوئی ہے جو بلوچستان کے ضلع جھل مگسی اور بلوچستان سے ملحقہ سندھ کے علاقے جیکب آباد کے رہائشی تھے۔کوئٹہ پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کوبتایاہے کہ یہ افراد ایک بین الصوبائی جرائم پیشہ گروہ لاشاری گروپ سے تعلق رکھتے تھے جو سندھ اور پنجاب میں پولیس کو گاڑیاں چھیننے، چوری اور ڈکیتی کے 172مقدمات میں مطلوب تھے۔پولیس کے مطابق یہ گروہ کراچی، سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے گاڑیاں چوری کرکے مختلف راستوں سے بلوچستان منتقل کرتا تھا جہاں انہیں ایک دوسرے گروہ کے ذریعے فروخت کیا جاتا تھا۔لین دین وٹس ایپ گروپس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے کیا جاتا تھا تاکہ اس کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔پولیس نے بتایا کہ اب تک اس گروہ سے 26گاڑیاں کوئٹہ سے برآمد کی جا چکی ہیں جن میں سے زیادہ تر کراچی سے چھینی گئی تھیں۔ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے گزشتہ ہفتے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ کراچی سمیت سندھ اور دیگر صوبوں سے شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ وہاں سے چوری اور چھینی گئی گاڑیاں بلوچستان میں فروخت کی جا رہی ہیں۔ان کے بقول ان شکایات کی روشنی میں سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کو ٹاسک دیا گیا جس نے تین ہفتے سے زائد مانیٹرنگ اور انٹیلی جنس معلومات کے بعد ایک بڑا آپریشن کیا۔ اس دوران 20گاڑیاں برآمد کی گئیں اور چار افراد گرفتار ہوئے۔پولیس حکام نے انکشاف کیا تھا کہ یہ گروہ واٹس ایپ گروپس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے گاڑیوں کی خرید و فروخت کرتا تھا اور خریداروں کو یہ تاثر دیتا تھا کہ گاڑیاں بینک کی نادہندہ ہیں جبکہ اصل میں یہ تمام گاڑیاں چوری شدہ یا چھینی گئی تھیں۔کوئٹہ کے پولیس تھانہ جناح ٹان میں درج ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ لاشاری گروپ کے پانچ افراد بائی پاس روڈ سے کوئٹہ کی طرف آرہے ہیں۔ اطلاع ملنے پر رات 2 بجے پولیس نے سمنگلی روڈ پر ناکہ بندی کی۔پولیس کے مطابق لین دین وٹس ایپ گروپس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے کیا جاتا تھا تاکہ اس کا سراغ نہ لگایا جا سکے رات تین بج کر 10منٹ پر خروٹ آباد کی طرف سے آنے والی ایک گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا گیا جس پر گاڑی میں موجود افراد نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی اور گاڑی بھگا کر زیر تعمیر سی پیک روڈ کی طرف نکل گئے۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے تعاقب کیا، اس دوران ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی جن میں سے کئی گولیاں پولیس اہلکاروں کی بلٹ پروف جیکٹس پر بھی لگیں۔ گاڑی آگے جا کر رکی، اس میں سوار پانچ افراد نیچے اترے اور پولیس پر مسلسل فائرنگ کرتے رہے۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی۔ ایف آئی آر کے مطابق کچھ دیر بعد جب فائرنگ کا سلسلہ تھما تو تین افراد کی لاشیں زمین پر پڑی تھیں جو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے جبکہ دو مسلح ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے۔ہلاک افراد سے پستول، موبائل فون، نقدی اور گاڑی کے کاغذات برآمد ہوئے۔ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہلاک اور فرار ہونے والے ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ، کار سرکار میں مزاحمت اور اپنے ساتھیوں کو قتل کر کے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔

WhatsApp
Get Alert